اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان محض چند منٹوں میں دونوں ایوانوں سے پاس ہوا زرعی قوانین کو واپس لینے والا بل، راجیہ سبھا کے بارہ اراکین سرمائی سیشن سے معطل۔
نئی دہلی: سرمائی اجلاس کے پہلے دن ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ تاہم اس ہنگامہ آرائی کے درمیان تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔
اپوزیشن نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے بغیر بحث کے تینوں قوانین کو واپس لینے کا بل منظور کر لیا۔ اپوزیشن بحث کا مطالبہ کر رہی تھی۔ لیکن ہنگامی کے درمیان وزیر زراعت کے ذریعے پیش کیے گئے اس بل کو صوتی ووٹنگ کے ساتھ کر دیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق راجیہ سبھا نے سرمائی اجلاس کے باقی ماندہ 12 ارکان پارلیمنٹ کو معطل کر دیا ہے۔ انہیں قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے غلط طرز عمل کے معاملے میں معطل کیا گیا ہے۔ معطل ارکان میں سے چھ کانگریس سے ہیں۔ یہ چھ ہیں - پھلو دیوی نیتم، چھایا ورما، رپن بورا، راجمانی پٹیل، سید حسین اور اکھلیش سنگھ۔ معطل ارکان میں شیوسینا کی راجیہ سبھا ایم پی پرینکا چترویدی اور ٹی ایم سی ایم پی ڈولا سین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سی پی ایم کے الامار کریم، سی پی آئی کے بنوئے وسام، ٹی ایم سی کی شانتا چھتری اور شیو سینا کے انیل دیسائی ہیں۔

مانسون سیشن میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر ان ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ان پر 11 اگست کو مانسون اجلاس کے آخری دن سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے کا الزام تھا۔ ہلاکی کی حالانکہ کہ اب خبر آئی ہے کہ یہ سبھی اراکین پارلیمنٹ كل راجیہ سبھا چیئرمین و نائب صدر وینکیا نائیڈو سے ملاقات کر کے معافی مانگ گیں جس کے بعد انکی معطلی واپس ہو سکتی ہے۔

لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی زرعی قانون کو واپس لینے کا بل منظور کر لیا گیا۔
لوک سبھا کے بعد تین متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا بل راجیہ سبھا میں بھی منظور کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی زرعی قانون کو واپس لینے کا بل پارلیمنٹ میں پاس ہو گیا ہے۔ اسے راجیہ سبھا میں بھی صوتی ووٹ سے پاس کیا گیا۔اب صدرجمہوریہ کے دستخط کے بعد یہ قوانین مکمل طور پر منسوخ ہوجائیں گے۔ ان قوانین کو واپس لینے کا اعلان وزیراعظم نے حال ہی میں کیا تھا، ان قوانین کو لے کر پچھلے ایک سال سے زائد عرصے سے کسان مسلسل سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں جس کے بعد حکومت کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔
لوک سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے دوبارہ شروع ہوئی لیکن ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اسے کل تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

DT Network