ایس پی اور آر ایل ڈی کا اتحاد آخری مرحلے میں، آر ایل ڈی نے کیا نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا مطالبہ، اکھلیش سے ملاقات کے بعد کیا بولے جینت چودھری؟
لکھنؤ: اترپردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں، منگل کو لکھنؤ میں اکھلیش یادو کی رہائش گاہ پر سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور راشٹریہ لوک دل کے صدر جینت چودھری نے ملاقات کی۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان طویل عرصے سے اتحاد کی قیاس آرائیوں پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ دونوں پارٹیاں آئندہ اسمبلی انتخابات میں ایک ساتھ لڑیں گی، حالانکہ ابھی تک اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن جینت چودھری نے ٹویٹ کر کے اس کی اطلاع دی ہے، جلد ہی اس کا اعلان دونوں جماعتوں کی طرف سے پریس کانفرنس میں کیے جانے کی توقع ہے۔ (ایس پی آر ایل ڈی اتحاد)
اس ملاقات کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے جینت چودھری نے لکھا "بڑھتے قدم 2022 کی طرف" جینت ایس پی سپریمو سے ملاقات کے بعد دہلی واپس آگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جینت نے اکھلیش کے سامنے آر ایل ڈی کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دینے کا مطالبہ رکھا ہے۔
میٹنگ کے بعد جینت چودھری نے بتایا کہ ایس پی اور آر ایل ڈی کا اتحاد طے ہے، جلد ہی اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، یوپی اسمبلی انتخابات 2022 میں سیٹوں کو لے کر اکھلیش یادو سے بات چیت آخری مرحلہ میں ہے۔ قبل ازیں اے این آئی سے بات چیت میں انہوں نے کہا تھا کہ آر ایل ڈی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان اتحاد کا اعلان اس ماہ کے آخر تک کیا جا سکتا ہے۔ دونوں پارٹیوں نے اس سے قبل 2017 کے اسمبلی انتخابات اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات ایک ساتھ لڑے تھے۔ ان دونوں جماعتوں کا اتحاد مغربی یوپی میں مسلم اور جاٹ ووٹوں کو ایک ساتھ لانا ہے۔ مظفر نگر فسادات کے دوران ان دونوں فرقوں کے درمیان تعلقات نا خوشگوار ہو گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق ایس پی اور آر ایل ڈی میں سیٹوں پر سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ آر ایل ڈی 36 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔ آر ایل ڈی 50 سیٹیں مانگ رہی تھی جب کہ ایس پی 30 سے ​​32 سیٹیں دینے کو تیار ہے، ذرائع کی مانیں تو جینت اور اکھلیش کے درمیان بات چیت کا ایک اور دور ہوگا، جس کے بعد دونوں لیڈر پریس کانفرنس کرکے اتحاد کا اعلان کرسکتے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تقریباً نصف درجن ایس پی لیڈر آر ایل ڈی کے ٹکٹ پر اسمبلی الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ جینت نے ٹویٹ کرکے اشارہ دیا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان بات چیت کی گاڑی مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

سمیر چودھری
ڈی ٹی نیٹ ورک