ذیشان حیدر کی موت کے معاملہ میں پولیس سے جواب طلب۔
گزشتہ دنوں پولیس کی چھاپہ ماری کے دوران گولی لگنے سے ہوئی شیعہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی موت کا معاملہ پولیس کے لئے پریشانی کا سبب بن چکا ہے ۔ اس معاملہ میں ریاستی اقلیتی کمیشن نے پولیس اہلکاروں کو طلب کیا ہے اور ساتھ ہی اگلی سماعت کی تاریخ 10جنوری متعین کی گئی ہے۔
گزشتہ 4 ستمبر کو دیوبند پولیس نے گﺅ کشی کی اطلاع پر تھیتکی گاﺅں کے جنگل میں چھاپہ ماری کی تھی ، اس دوران پیر میں گولی لگنے سے تھیتکی گاﺅںکے رہنے والے ذیشان حیدر نقوی زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد علاج کے دوران ان کی موت واقع ہوگئی تھی ، پولیس کا کہنا تھا کہ بھاگتے وقت ذیشان کے پیرمیں اس کے ہی طمنچہ سے گولی لگی تھی ، جب کہ اس حادثہ میں مرنے والے کی بیوی نے تین سب انسپکٹر سمیت 13پولیس اہلکاروں پر گھر سے بلاکر اس کے شوہر کا قتل کردینے کا الزام عائد کیا تھا اوراعلیٰ افسران واقلیتی کمیشن سے شکایت کرتے ہوئے انصاف کی فریاد کی تھی ، فی الحال اس معاملہ کی جانچ سہارنپور کرائم برانچ کررہی ہے، جانچ کی کارروائی پوری نہ ہونے پر مرکز اور ریاستی اقلیتی کمیشن برابر پولیس کو طلب کررہا ہے جس کے سبب اب ریاستی اقلیتی کمیشن کی جانب سے سماعت کی تاریخ 10جنوری 2022متعین کی گئی ہے۔
مرنے والے ذیشان حیدر کے تایا زاد بھائی اور سماجوادی پارٹی حکومت میں درجہ حاصل وزیر رہے سید عیسیٰ رضا نے کہا کہ قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لئے قانونی لڑائی ہر سطح پر لڑی جائے گی۔

0 Comments