الیکشن سے قبل متھرا میں کشیدگی۔ جمعہ کی نماز کے دوران پی ایس ای تعینات ،آدھار کارڈ کے بعد ہی جامع مسجد میں داخلہ کی اجازت۔
متھرا: ایودھیا اور کاشی کے بعد اب متھرا کی تیاری ہے ۔ یہ اعلان یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے کیا ہے۔ انہوں اکھلیش یادو سے سوال کیا ہے کہ وہ بتائیں کہ متھرا کے شری کرشن جنم بھومی پر بھگوان شری کرشن کا مندر چاہتے ہیں یا نہیں۔ موریہ کے بیان کے بعد متھرا میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس کشیدگی کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ جمعہ کی نماز پڑھنے والوں کی چیکنگ کی گئی ساتھ ہی آدھار کارڈ دیکھنے کے بعد ہی مسجد میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ احتیاط کے طور پر مسجد کے باہر پی ایس ای کی دس ٹکڑی تعینات کی گئی ہیں۔

بتا دیں کہ اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا نے 6 دسمبر کو بابری مسجد کی شہادت کے دن متھرا میں کرشن جنم بھوی میں جل ابھیشیک کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کو لیکر شہر میں کشیدگی پھیل گئی ہے ۔
غور طلب ہے کہ موریہ نے متھرا میں متنازعہ عید گاہ کولیکر ٹویٹ کیا ہے کہ اب ایودھیا کے بعد کاشی اور متھرا کی باری ہے، وہاں پر بھی شاندار مندر بنایا جاۓ گا۔ ادھر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی کہہ چکے ہیں کہ اب ہندوؤں اپنے مقدس مقامات کو خالی کرانے کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت نہیں۔

 DT Network