شاملی میں دو بچوں سمیت تین افراد کا قتل کئے جانے سے سنسنی۔
شاملی: اُترپردیش کے ضلع شاملی کے جھنجھنا تھانہ علاقہ کے تحت جھنجھنا قصبہ کے قریب دو معصوم بچوں کی لاشیں اور ایک شخص کی لاش لٹکی ہوئی ملی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متوفی شخص نے پہلے دونوں بچوں کو قتل کیا اور پھر پھانسی لگا لی، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا اور مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔
شاملی ضلع کے جھنجھنا تھانہ علاقے کے تحت جھنجھنا قصبہ کے قریب اس وقت ہلچل مچ گئی جب پانی کے ٹیوب ویل پر دو معصوم بچوں کی لاشیں ملی۔ تو وہیں اسی کے قریبی ٹویل کے کمرے میں ایک شخص کی لاش لٹکی ہوئی ملی۔ واقع کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگوں نے متوفی کی شناخت کی، جہاں متوفی شادی کے بعد کافی پریشانی سے گزر رہا تھا، متوفی کی شناخت صدر کوتوالی کے گاؤں کڈانہ کے رہنے والے سویت کمار کے نام سے ہوئی ہے۔ جو کی اپنی اہلیہ سے گھریلو تنازع کی وجہ سے 6 دن پہلے اپنی بیوی سے لڑائی کے بعد وہ اپنے دو بچوں (بیٹے لکشیا اور بیٹی لکشمی) کے ساتھ گھر سے نکلا تھا۔ متوفی کی بیوی جھگڑے کے بعد اپنے میکے چلی گئی تھی، جس کو لینے کے لیے وہ اپنے سسرال گیا تھا، اس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔

بھائی کے گھر نہیں لوٹنے پر 2 روز قبل مقتول کے چھوٹے بھائی نے صدر کوتوالی میں گمشدگی کی درخواست درج کرائی تھی۔دوسری جانب متوفی کے والدین اور دیگر رشتہ دار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ مذکورہ معاملے میں گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ واقع کی اطلاع پولیس افسر نے دی تھی، معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ یہ گاؤں کڈانہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا نام سویت ولد رام کشن ہے اور اس کا اپنی بیوی سے کچھ دن پہلے جھگڑا ہوا تھا۔ اور 2 دن پہلے اس کی گمشدگی کی رپورٹ اس کے بھائی نے صدر کوتوالی میں درج کرائی تھی۔ وہیں واقعے کے معاملے میں متوفی کے بھائی کا کہنا ہے کہ یہ 6 دن قبل گھر سے لاپتہ ہوا تھا اور ہم نے اس معاملے کی اطلاع گزشتہ روز درج کرائی تھی۔

دوسری جانب اس معاملے میں پولیس افسر کا کہنا ہے کہ تھانہ جھنجھنا کے علاقے جھنجھنا کے قریب پانی کی ٹووئل سے دو بچوں کی لاشیں ملی ہیں، جب کہ بچوں کے والد کی لاش بھی ٹویل سے لٹکی ہوئی ملی ہے۔ موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے لیا گیا ہے جبکہ متوفی کی شناخت کر لی گئی ہے جو صدر کوتوالی کے علاقے کڈانہ کا رہنے والا ہے۔ پولیس نے لاش قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دی اور مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔