بنگلورو میں مسلم نوجوان کے ساتھ پولس کا شرمناک رویہ, تھانے میں توصیف کو بلے سے مارا، داڑھی کاٹ دی اور پیشاب پینے پر مجبور کیا۔
بنگلورو۔ 7؍دسمبر:(نمائندہ خصوصی) بنگلورو شہر میں پولس کا ایک شرمناک معاملہ سامنے آیا ہے، یہاں کے ایک پولس تھانے میں ۲۳ سالہ مسلم نوجوان کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کرنے اور اسے پیشاب پینے کےلیے مجبور کیاگیا، بعد میں پولس انسپکٹر کو معطل کردیاگیا۔ معطل پولس افسر ہریش کے این بیاتریان پورہ تھانے سے منسلک تھا۔ 
اطلاعات کے مطابق یکم دسمبر دوپہر تقریباً ایک بجے ۲۳ سالہ توصیف پاشا کو گزشتہ روز پڑوسی سے جھگڑے کے الزام میں تھانہ لے جایاگیا، توصیف کے والد اسلم پاشا نے کہاکہ بیٹے کے ساتھ مار پیٹ کی گئی اور پولس نے توصیف کی رہائی کےلیے پیسے کا مطالبہ کیا، لیکن ہم کبھی نہیں جانتے تھے کہ توصیف کو تھانے سے باہر آنے تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
توصیف نے کہاکہ انہوں نے مجھے کرکٹ کے بلے سے کم سے کم تیس بار مارا اور جب میں نے ان سے پینے کےلیے پانی طلب کیا تو انہوں نے مجھے پیشاب پینے پر مجبور کیا، میری داڑھی بھی کاٹ دی میں نے ان سے ایسا نہ کرنے کی بھیک مانگی کیوں کہ یہ میری عقیدت کا حصہ تھا لیکن انہوں نے کہاکہ پولس اسٹیشن کوئی مذہبی مرکز نہیں ہے انہوں نے مجھے سے تھانے کی صفائی بھی کروائی۔