پاکستان :پارلیمنٹ کا اجلاس تحریک عدم اعتماد پر بحث کے بغیر 3 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا۔
اسلام آباد:  پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو اچانک اتوار تک کے لئےاس وقت ملتوی کر دیا گیا جب اپوزیشن نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر فوری ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں جیسے ہی قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے قانون سازوں سے کہا کہ وہ ایجنڈے میں درج آئٹمز پر بحث کریں۔تاہم اپوزیشن نے وزیراعظم خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر فوری ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔
اس کے بعد اپوزیشن کے شدید احتجاج کے درمیان ڈپٹی اسپیکر سوری نے ایوان کی کارروائی اتوار کی صبح 11 بجے تک کےلئے ملتوی کر دی۔
وزیر اعظم کے خلاف قرارداد 28 مارچ کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے پیش کی تھی اور اسی دن بحث کے لیے منظور کر لی گئی تھی۔
اسمبلی سیکرٹریٹ نے قبل ازیں جمعرات کے اجلاس کے لیے 24 نکاتی ایجنڈا جاری کیا تھا اور تحریک عدم اعتماد ایجنڈے میں چوتھے نمبر پر تھی۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے آئین کے آرٹیکل A-95 کے تحت تحریک عدم اعتمادپیش کی تھی اور اس پر 161 ارکان کے دستخط تھے۔ تحریک پیش کرتے ہوئے شریف نے کہا تھا کہ وہ وزیراعظم خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر رہے ہیں۔
ووٹنگ 3 اپریل کو متوقع ہے اور اہم دن سے پہلے دونوں فریق اس معاملے پر بحث کے لیے اسمبلی فورم کا استعمال کریں گے۔
حکومت کے دو اہم اتحادیوں بشمول متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے حکومت کے خلاف محاذ میں شامل ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے۔
اتحادیوں کی جانب سے اس سے دستبردار ہونے کے بعد حکومت اپنی اکثریت کھو چکی ہے اور کرکٹر سے سیاستدان بنےمسٹرخان پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔تاہم ان کے وزراء نے کہا ہے کہ خان ’’آخری اوور کی آخری گیند‘‘ تک لڑیں گے۔
مسٹر خان کو 342 اراکین والے ایوان زیریں میں 172 ووٹوں کی ضرورت ہے تاکہ انہیں گرانے کی اپوزیشن کی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ تاہم جمعیت علمائے اسلام فضل (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کو 175 قانون سازوں کی حمایت حاصل ہے اور وزیراعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
پاکستان کے کسی وزیر اعظم نے آج تک اپنے عہدے پر پانچ سال کی مدت پوری نہیں کی۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی کسی وزیر اعظم کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے معزول نہیں کیا گیا، اور مسٹر خان اس چیلنج کا سامنا کرنے والے تیسرے وزیر اعظم ہیں۔
منگل کو وزیراعظم عمران خان نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمان کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے باز رہیں یا نہ آئیں، جو کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں ہونے کا امکان ہے۔
مسٹر خان 2018 میں ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئے لیکن اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے، اپنی حکومت کے خلاف اپوزیشن کوسازش کرنے سے روکنے میں ناکام رہےاوراسی طرح بنیادی مسائل کوحل کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوئے۔
مسٹرخان کے وزیراعظم بنےرہنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں اور غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ تمام اتحادیوں کی حمایت حاصل کی جائے اور اپنی ہی پارٹی کے اندر موجود مخالفین کو منالیا جائے۔