ہماری ذلت ورسوائی کا سبب ترک قرآن کریم ہے ، ۲۵؍ ویں مسابقۃ القرآن کریم سے مولانا انیس الرحمان قاسمی کا خطاب، کل دوروزہ پروگرام کا آخری دن۔
ممبئی: (نازش ہما قاسمی) ادارہ دعوۃ السنہ ویلفیئر ٹرسٹ مہاراشٹر کے زیر اہتمام ممبئی کے حج ہائوس میں دو روزہ ۲۵؍ واں کل ہند مسابقۃ الکریم کریم کا آغاز جمعہ کی صبح ۹ بجے سے ہواجو بعد نماز مغرب تک جاری رہا۔ پہلی نشست کی صدارت مولانا ارشد میر صاحب نے فرمائی، دوسری نشست بعد نماز جمعہ مفتی نذر توحید (شیخ الحدیث ومہتمم مدرسہ رشیدالعلوم چترا ، ہزاری باغ کی صدارت میں منعقد ہوئی اور تیسری نشست بعد نماز مغرب مولانا ابوظفر حسان ندوی ازہری کی صدارت میں منعقد ہوئی۔
صدارتی خطاب میں مولانا انیس الرحمان قاسمی نے قرآن کریم کی آفاقی افادیت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہاکہ مجھے خوشی ہورہی کہ میں اس قرآنی محفل کا حصہ ہوں ۔ انہوں نے مولانا شاہدناصری صاحب کو طویل عرصے سے اس روحانی مجلس کے انعقاد پر مبارک باد دی اور کہاکہ شہر ممبئی میں جہاں ایک طرف لوگ مادیت کی طرف دوڑتے ہیں وہیں مولانا شاہد ناصری مدارس اسلامیہ کے بچوں کے لیے قرآن کریم کے تعلق سے مسابقے کا اہتمام کرتے ہیں اور ان میں قرآن حفظ یاد کرنے بہترین طو رپر پڑھنے کا جذبہ بیدار کرتے ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ آخری اورمستند ترین کتاب ہے جسے دین کے معاملے میں انسانیت کی ہدایت کے لیے محمد رسول اللہؐ پر نازل کیا گیا ہے ۔اِس کتاب ہدایت سے استفادہ انسان تب ہی کرسکتا ہے جب وہ اِسے پڑھے گا ، اِس کی تلاوت اور اِس کا مطالعہ کرے گا ۔ تلاوت قرآن کی فضیلت احادیث کی روشنی میں واضح ہیں۔حضر ت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھلائے۔ ۔حضرت عمربن الخطابؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن مجید) کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو سرفراز فرمائے گا اور اسی کی وجہ سے دوسروں کو ذلیل کردے گا۔ سرفراز اللہ کے حکم سے وہی ہوں گے جو قرآن کے احکام کی پیروی کریں گے۔ ابتدائی چند صدیوںمیں مسلمان جب ہرجگہ قرآن کے حامل اورعامل تھے ‘ اس پر عمل کی برکت سے وہ دین ودنیا کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوئے۔ لیکن مسلمانوں نے جب سے قرآن کے احکام وقوانین پر عمل کرنے کو اپنی زندگی سے خارج کردیا تب سے ہی ان پر ذلت ورسوائی کا عذاب مسلط ہوا ہے ۔ کاش ہم پھر سے قرآن کریم سے اپنا رشتہ جوڑلیں تاکہ ہم پھر سرخ رو ہوسکیں۔واضح رہے کہ اس مسابقۃ القرآن الکریم میں ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے مدارس کے بچوں نے شرکت کی اور اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ 
پروگرام کی نظامت ملی کونسل بہار کے جنرل سکریٹری مولانا مفتی نافع عارفی نے فرمائی۔ پروگرام میں حافظ اقبال چونا والا، مولانا قاری محبوب اللہ، مولانا یوسف فریدی، مولانا ظفیرالحق قاسمی، حکیم افتخار قاسمی، مولانا حکیم رضوان قاسمی،مولانا رشید احمد ندوی، غفران ساجد قاسمی، مولانا ساجد ناصری، مولانا ساجدالرب، مولانا سرفراز ندوی، مفتی عبیداللہ قاسمی، مولانا خان افسر قاسمی وغیرہم کے علاوہ دیگر اہم علماءو حفاظ شریک تھے۔ 
ادارہ کے روح رواں مولانا شاہدالناصری الحنفی (ایڈیٹر مکہ میگزین) نے بتایا کہ سنیچر کے اجلاس میں پہلی نشست کی صدارت مفتی سعیدالرحمان فاروقی (استاد دارالعلوم امدادیہ) دوسری نشست کی صدارت (مولانا مفتی انیس الرحمان قاسمی (قومی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل و سابق ناظم امارت شرعیہ )، تیسری نشست بعد نماز مغرب منعقد ہوگی اس کی صدارت انجمن اسلام ممبئی کے روح رواں ڈاکٹر ظہیر قاضی فرمائیں گے اس میں مسابقے میںشریک طلبہ کے نتائج کا اعلان کیا جائے گا اور انہیں انعامات سے نوازا جائے گا طلبہ کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ حیات میں خدمات انجام دینے والے حضرات کو مشاہیر علمائے کرام وانشوران کے ہاتھوں اعزازات دئیے جائیں گے۔ یہ پروگرام بصیرت آن لائن کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیا گیا جسے دنیا بھر کے لوگوں نے دیکھا اور سراہا۔

DT Network