نظر فاؤنڈیشن کی جانب سے اعزازی تقریب کا انعقاد، تنظیم کے کارکنان کا جذبہ خدمت خلق قابل تقلیدہے۔ڈاکٹر عبید اقبال عاصم۔
دیو بند:(فہیم صدیقی)
خدمت خلق انجام دینے والی دیوبند کی معروف تنظیم ”نظر فاؤنڈیشن“کی جانب سے گذشتہ شب جامعہ اشرفیہ دارالعلوم کے تعاون سے ایک اعزازی تقریب منعقد کی گئی۔اس اعزازی تقریب کی صدارت امام القراء مولانا قاری ابوالحسن نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض جامعہ اشرفیہ دارالعلوم کے مہتمم مولانا سالم اشرف اور تنظیم کے چیئرمین نجم عثمانی نے مشترکہ طور پر انجام دی۔
مہمان خصوصی کے طور پر معروف مصنف وتاریخ داں ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے شرکت فرمائی جبکہ مہمان ذی وقار کی حیثیت سے نعیمیہ بکڈپو کے مالک اور نشر واشاعت میں منفرد شناخت رکھنے والی شخصیت محمد انس صدیقی موجود رہے۔اعزازی تقریب کا آغاز حافظ محمد سعد کی تلاوت کلام اور مسحور کن نعت نبیؐ سے ہوا۔بعد ازاں تنظیم کے چیئرمین نجم عثمانی نے تنظیم کا تعارف،مقاصداور پروگرام کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم کا مقصد غریب اورضروتمند طالب علموں کی تعلیمی ضروریات میں مدد کرنا اور ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو خدمت خلق کے لئے مختلف زاویوں سے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں خاص طور پر اصلاح معاشرہ،دینی خدمات،نشر واشاعت،تصنیف وتالیف اور عصری وتکنیکی تعلیم کے ذریعہ قوم وملت کی خدمت کا فریضہ اخلاص اور فکر کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔اعزازی تقریب کے معاون وکنوینر اور جامعہ اشرفیہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور معروف عالم دین مولانا سالم اشرف نے مہمانان کرام کا پر جوش خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ نظر فاؤنڈیشن ایک سوچ،ایک فکر،اورایک تحریک ہے جو سیرت نبویؐ کے آئینہ میں اس مشن سے قوم وملت کو جوڑنا چاہتی ہے ایک ایسا مشن جو انسانوں کو پستی سے نکال کر آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نظر فاؤنڈیشن اور نظر اکیڈمی کے قیام کامقصد یہ ہے کہ غریب وبے سہارا نیز یتیم ومسکین طالب علموں کی تعلیمی حصول میں مدد اور آگے بڑھنے کا سہارا و حو صلہ بخشا جائے۔مولانا سالم اشرف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیغمبرؐ اور ان کی امت کو پوری انسانیت کی صحیح رہنمائی کرنے اور تعلیم کا پیغام عام کرنے کے لئے دنیا میں بھیجا لیکن آج پورے عالم میں قوم یہود اور جین برادری تعلیم کے معاملہ میں بہت آگے ہیں۔مسلمان مذہبی اور عصری دونوں تعلیم میں بہت پسماندہ ہیں۔نظر اکیڈمی کا پہلا مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے راغب کیا جائے اور آگے بڑھنے میں ان کی مدد کی جائے۔اعزازی تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے کہا کہ میرے لئے یہ انتہائی فخر کی بات ہے کہ جس مقصد کے تحت مجھے یہاں بلایا گیا ہے وہ مقصد بہت اعلیٰ اور انسانیت کو نفع پہنچانے والا ہے۔انہوں نے کہا نظر فاؤنڈیشن،اس کے چیئرمین اور دیگر ارکان جس طریقہ سے خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہیں وہ ہم سب کے لئے نہایت حوصلہ افزاء اور قابل تقلید ہے۔اس طرح کی حوصلہ افزائیوں سے خدمت کے جذبوں کو جلا ء ملتی ہے۔ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے کہا کہ خدمت خلق کا جذبہ اور حو صلہ ہمیں اپنے خاندان کے افراد،والدین،بزرگوں،اساتذہ اور اکابرین سے ورثہ میں ملا ہے اللہ تعالیٰ نے اس جذبہ میں مزید چار چاند لگائے یہی وجہ ہے کہ علی گڑھ میں انکی پہچان بحیثیت امام کم اور خدمت خلق کے ادنی سے خدمتگار کی حیثیت سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نظر فاؤنڈیشن کے ذریعہ سے نجم عثمانی خدمت خلق کے جو امورانجام دے رہے ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔اللہ تعالیٰ اس جذبہ کو مزید وسعت بخشے۔اشاعت علم کے خاص مرکز کتب خانہ نعیمیہ کے چیئرمین محمد انس صدیقی نے نظر فاؤنڈیشن کے ذمہ داران وکارکنان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے کاموں سے وہ بے حد متاثر ہیں۔تنظیم کی جانب سے انہیں اشاعت علم کے لئے جو یاد گاری اور اعزازی ایوارڈ دیا گیا ہے اس کے لئے وہ نجم عثمانی،مولانا سالم اشرف،نوشاد عثمانی اور دیگر ارکان کے ممنون ہیں۔اس دوران پروگرام میں شریک ممتاز شخصیات کو اعزازی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
تصنیف وتالیف کے میدان میں نمایاں خدمات کے صلہ میں ڈاکٹر عبید اقبال عاصم کو ”شان ادب وصحافت ایوارڈ“مولانا سالم اشرف قاسمی کو وقار تدریس وخطاب ایوارڈ،اشاعت علم کیلئے زرین خدمات انجام دینے کے صلہ میں محمد انس صدیقی کو ”اشاعت علم ایوارڈ2022“،ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے سید محمد نجم کو ”سماجی وٹیکنیکل ایجوکیشن ایوارڈ“ اورسماجی وقانونی خدمات کیلئے محمد معین صدیقی ایڈوکیٹ کو ”سماجی وقانو نی تعلیم ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اس سے قبل ماسٹر شمیم کرتپوری،سرور دیوبندی،ولی وقاص،ڈاکٹر عدنان نعمانی اور تنویر اجمل نے منظوم کلام پیش کرکے حاضرین کو محظوظ کیا اور مانو کلیان ٹرسٹ دیوبند کے چیئرمین طاہر حسن شبلی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس اعزازی تقریب میں ڈاکٹر عبید اقبال عاصم،مولانا محمد انس صدیقی،طاہر حسن شبلی،ماسٹر شمیم کرتپوری،نوشاد عثمانی،فہیم صدیقی،ولی وقاص،ضمیر حسن،تنویر اجمل،شہنواز عثمانی،محمد ریاست،عبد المتین،محمد حماد سالم،عبداللہ شہزاد،سرور دیوبندی اور سعد لکھنوی سمیت دیگر تعلیمی وسماجی شخصیات موجود رہیں۔پروگرام کے آخر میں نجم عثمانی نے تمام مہمانان کرام کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں صدر پروگرام قاری ابوالحسن صاحب کی دعاء پر اعزازی تقریب اختتام پذیر ہوا۔