کئی اہم فیصلوں کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کا اجلاس اختتام پذیر، اس مرتبہ بھی نہیں ہو سکا کارگزار مہتمم کا انتخاب۔
دیوبند(سمیر چودھری)
عظیم علمی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کئی اہم فیصلوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ہے، شوریٰ نے نہایت اہم فیصلہ کرتے ہوئے ممتاز عالم دین مفتی سید سلمان منصوری پوری کا دارالعلوم دیوبند میں بحیثیت استاذ انتخاب کیاہے جبکہ کارگزار مہتمم کے فیصلہ کو اس شوریٰ میں ملتوی کردیا گیاہے،وہیں اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کے ساتھ نئے داخلوں کو منظوری دی گئی۔ دارالعلوم دیوبند کے مہمان میں جاری دو روزہ مجلس شوریٰ کے اجلاس ملک وملت کی تعمیر وترقی اور انسانیت کی فلاح وخیر کی دعاؤں کے ساتھ اختتام پذیرہوکیا، مجلس شوری نے ادارہ کی رفتار ترقی اور کارکردگی کا شعبہ وار جائزہ لیا اورمستقبل کے لئے مثبت اور تعمیری فیصلے لئے۔کووڈ 19 کے بحران کے سبب گذشتہ دوسال سے جو جدید داخلے موقوف تھے حالات سازگار ہونے کے سبب نے تعلیمی سال میں دار الاقامہ کی گنجائش کے مطابق جدید دا خلے لینے کا فیصلہ لیا گیا مجلس شوری نے گریڈ کمیٹی کی تجاویز کومنظوری دیتے ہوئے گرانی کے پیش نظر کارکنان کی تنخواہوں میں معقول اضافہ کا فیصلہ بھی کیا۔مجلس شوریٰ نے آخری نشست میں نہایت اہم فیصلہ کرتے ہوئے امیر الہند، سابق نائب مہتمم اور جمعیۃ علما ہند کے سابق صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری کے صاحبزادے و ملک کے ممتاز عالم دین مولانا مفتی سید سلمان منصورپوری کا تقرر بحیثیت استاذ دارالعلوم دیوبند میں کیا ہے۔ شوریٰ کے اس فیصلے کی علمی حلقوں میں زبردست پذیرائی ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ حضرت مولانا قاری سید عثمان منصور پوری کا گزشتہ سال مئی میں کورونا کے دوران انتقال ہو گیا تھا، اسی وقت سے مفتی سید سلمان منصور پوری اور مفتی سید عفان منصور پوری میں سے کسی ایک کے دارالعلوم دیوبند میں لانے کی خبریں چل رہی تھی، جس پر آج دارالعلوم کی مجلس شوریٰ نے آخری مہر لگاتے ہوئے مفتی سید سلمان منصور پوری کا انتخاب کیا ہے۔ شوریٰ کے اس فیصلے کی رئیس الجامعہ مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے تصدیق کی ہے۔ مفتی سلمان منصورپوری مدرسہ شاہی مرادآباد میں گزشتہ طویل عرصے سے اپنی علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔وہیں کارگزار مہتمم اور نئے ناظم تعلیمات کے انتخاب کے فیصلوں کو اس مجلس شوریٰ میں بھی ملتوی کردیاگیاہے، ان عہدوں پر آئندہ شوریٰ میں فیصلوں ہونے کاامکان ہے۔دریں اثناء دار العلوم دیو بند کی مجلس شوری کے رکن مولا نا نظام الدین خاموش کے انتقال پر تعزیتی قراردادمنظور کی گئی، پہلی نشست کا آغاز مولا نامفتی اسماعیل مالیگاؤ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ صدارت حکیم کلیم اللہ نے کی۔ شوریٰ کے اجلاس میں رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل،مولانا عبد العلیم فاروقی،مولانامفتی محمد اسمعیل،مولا نا ملک محمد ابراہیم، حکیم کلیم اللہ،مولانا رحمت اللہ،مولانا انوار الرحمن، سید انظر حسین میاں،مولانا محمودحسن،مولانا عبد الصمد،مولانا محمد عاقل سہارنپور،مولانا سید حبیب احمد،مولا نا عاقل قاسمی گڑھی دولت، مولا نا مفتی شفیق احمد، صدرالمدرسین مولانا سید ارشد مدنی اور مولانامفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیو بند نے شرکت کی جب کہ مولا نا سید محمد رابع حسنی ندوی،مولا نا غلام حمد وستانوی مولا نا محمد اشتیاق اور مولا نا مفتی احمد خانپوری بسبب عذرشر کت نہیں کر سکے۔

سمیر چودھری ۔