حجاب کے تعلق سے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے افسوسناک قرار دیتے ہوئے بتایا اسلامی تعلیمات کے خلاف۔
نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کر نا ٹک ہائی کورٹ کے حجاب کے سلسلے میں دیے گئے فیصلے پر کہا کہ کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ اسلامی تعلیمات کے خلاف اور شرعی حکم کے مغائر ہے، عدالت کا یہ فیصلہ دستور کی دفعہ 15 کے بھی خلاف ہے جو مذہب نسل، ذات پات اور زبان کی بنیاد پر ہرقسم کی تفریق کے خلاف ہے۔ جواحکام فرض یا واجب ہوتے ہیں وہ لازم ہوتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی گناہ ہے، اس لحاظ سے حجاب ایک لازمی علم ہے اگر کوئی اس حکم پر عمل نہ کرے تو وہ اسلام کے دائرے سے نہیں نکلتا ہے لیکن وہ گناہ گار ہوتا ہے اس وجہ سے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ حجاب اسلام کالازمی حکم نہیں ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے اخباری بیان میں یہ بھی کہا کہ بہت سے مسلمان اپنی کوتاہی اور غفلت کی وجہ سے شریعت کے بعض احکام میں تساہل سے کام لیتے ہیں جیسے نماز نہیں پڑھتے ہیں اور روز نہیں رکھتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز اور روز ہ لازم نہیں ہیں ، پھر یہ کہ اپنی پسند کا لباس پہنا اور اپنی مرضی کے مطابق جسم کے بعض حصے کو چھپانا اور بعض حصوں کو کھلا رکھنا ہر شہری کا دستوری حق ہے اس میں حکومت کی طرف سے کسی طرح کی پابندی فرد کی آزادی کو مجروح کرنے کے مترادف ہے، اُنہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے گروہ موجود ہیں اور بہت سے مواقع پر وہ اپنی مذہبی علامتوں کا استعمال کر تے ہیں ، خو دحکومت بھی بعض مذہبی فرقوں کے لیے ان کی خصوصی علامتوں کو استعمال کی اجازت دیتی ہے، یہاں تک کے ان کے لیے ہوا بازی کے قانون میں ترمیم بھی کی گئی ہے ایسی صورت حال میں مسلمان طالبات کو حجاب کے استعمال سے روکنا مذ ہب کی بنیاد پر تفریق کی شکل قرار پاۓ گی ، پھر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یونیفارم مقرر کرنے کا حق اسکولوں کی حد تک ہے اور جو معاملہ ہائی کورٹ گیا ہے وہ اسکولوں کا نہیں کالج کا تھا، اس لیے ضابطہ کے مطابق انتظامیہ کو اپنی طرف سے یونیفارم نافذ کرنے کا حق نہیں تھا ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس فیصلے پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کرتا ہےاور وہ جلد ہی اس سلسلے میں مناسب قدم اٹھائے گا اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کر لیا۔

سمیر چودھری۔