کشمیر فائلس: شرم تم کو مگر نہیں آتی!
کشمیر فائلس مسلمانوں کے خلاف ذہن سا زی۔ بالی ووڈ کے ”خان“ اب تو ہوش میں آؤ
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز۔ حیدرآباد۔ فون:9395381226
”کشمیر فائلس“ کے اِن دنوں کافی چرچے ہیں۔ وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس فلم کو حقیقت کی عکاس قرار دیا۔ کئی ریاستوں میں ٹیکس فری کردیا گیا۔ گجرات کی تمام سنیما گھروں سے دوسری فلموں کو ہٹادیا گیا تاکہ ”کشمیر فائلس“ کو لوگ زیادہ سے زیادہ دیکھ سکیں۔ پولیس کو یہ فلم دیکھنے کے لئے ایک دن کی چھٹی دی جارہی ہے۔ بالی ووڈ کے کئی اداکاروں نے اس فلم کی پبلسٹی میں حصہ لیا۔ سوشیل میڈیا پر تو باقاعدہ مہم جاری ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے۔ سنیما ہالس میں ایک مخصوص طبقہ جو مسلمانوں کے علاوہ اور کوئی ہوسکتا ہے ان کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے جارہے ہیں۔ شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ حتیٰ کہ کپل شرما جیسے کامیڈین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں کہ اس نے اپنے شو میں ”کشمیر فائلس“ کی پرموشن کے لئے ان کی ٹیم کو مدعو نہیں کیا۔
 ”کشمیر فائلس“ کی جتنی تعریف ہورہی ہے اسے یقینی طور پر مبالغہ ہی کہا جائے گا۔ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ 19/جنوری 1990کو اور اس کے بعد کے واقعات پر مبنی اس فلم کے ذریعہ پہلے ہی سے فرقہ وارانہ طور پر متاثر ہندوستان کے ماحول کو اور بھی بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔
 19/جنوری 1990ء کو کشمیر کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکرس سے اعلانات کئے گئے تھے کہ ”کشمیری پنڈت کافر ہیں“ وہ یا تو اسلام کے دائرہ میں داخل ہوجائیں یا پھر ”پنڈٹ مرد“ علاقہ سے نکل جائیں۔ یقینی طور پر ایک افسوسناک، قابل مذمت واقعہ ہے۔ تاہم مساجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کرنے والوں سے زیادہ ذمہ دار اس وقت کا گورنر جگموہن تھا جس نے کشمیری پنڈتوں کی سیکوریٹی کو یقینی بنانے کی بجائے پنڈتوں کو محفوظ مقام منتقل ہوجانے کا مشورہ دیا تھا۔ اس وقت مرکز میں حکومت وی پی سنگھ کی جنتادل کی تھی جسے بی جے پی کی حمایت حاصل تھی۔ جگموہن پکا سنگھی تھا۔ اس کا ریکارڈ ہمیشہ سے متنازعہ، مشکوک اور قابل مذمت رہا۔ ایمرجنسی کے دور میں سنجے سنگھ کی ڈکٹیٹرشپ کا جگموہن نے خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے دہلی کی ترکمان گیٹ میں تباہی مچادی تھی۔
 یہ سچ ہے کہ 89کشمیری پنڈتوں کا قتل عام ہوا تھا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ مگر اس حقیقت سے ”کشمیر فائلس“ بنانے والے کیوں آنکھیں چراتے رہے ہیں کہ کشمیری پنڈت اتنی تعداد میں ہلاک نہیں ہوئے جتنے کشمیری مسلمانوں کا قتل کیا گیا۔ سیکوریٹی فورسس نے دہشت گردی کے صفائے میں کتنے نوجوانوں کو موت کی گھاٹ اُتارا۔ کتنی دوشیزاؤں یا خواتین کی آبرو ریزی کی۔ کتنوں کو جیل میں سڑا دیا۔ کشمیر کے لئے تو ہم جنگیں لڑتے رہے‘ مگر کیا کبھی کشمیریوں کے لئے ہمارے دل میں کوئی تڑپ پیدا ہوئی۔ ان کے خلاف تو اس قدر زہریلا پروپگنڈہ کیا جاتا رہا کہ کشمیری طلبہ ہندوستانی ہوتے ہوئے بھی خود کو اجنبی محسوس کرتے رہے۔ جب بھی ملک میں کوئی واقعہ پیش آیا۔ کشمیری طلبہ پر حملے کئے جاتے رہے۔ ”کشمیر فائلس“ لکھنے والے اگنی ہوتری نے تاریخ نہیں پڑھی یا جان بوجھ کر اس نے تاریخی حقائق کو نظر انداز کردیا کہ 1948ء میں صرف جموں میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا گیا تھا‘ مگر کسی نے انتقامی کاروائی نہیں کی۔
 سوال یہ ہے کہ یہ فلم کیوں بنائی گئی۔ اور اسے اس قدر پذیرائی کیوں مل رہی ہے۔ کشمیر میں دفعہ 370کی برخواستگی کے بعد کشمیری مسلمانوں کے خلاف ہندوستانی عوام کی ذہن سازی ان سے نفرت پیدا کرنے کی یہ سازش اور کامیاب کوشش ہے۔ اس فلم کا پروڈیوسر زی اسٹوڈیو ہے۔ Zee کو جھوٹ پر مبنی خبریں اور پروپگنڈے کے لئے ملک بھر میں پہلا مقام حاصل ہے۔ اس کی مسلم دشمنی ایک حقیقت ہے۔ اور ”کشمیر فائلس“ بناکر اس نے برطانیہ، روس اور جرمنی کے ہٹلر کی تقلید کی ہے۔
 دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ اور روس نے فلم میڈیا کو عوامی ذہن سازی کے لئے استعمال کیا کیوں کہ ’فلم‘ تعلیم یافتہ اور اَن پڑھ دونوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ خواتین اور نوجوان نسل میں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یہودیوں کے لئے عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ”جوزف گوبلز“ نے ڈاکومنٹری فلمیں بنائیں جس میں یہودیوں پر کی جانے والی اذیت رسانی کو متاثر کن انداز میں پیش کرتے ہوئے دنیا کی ہمدردی حاصل کی۔ ”کشمیر فائلس“ ایسی ہی ایک کوشش ہے۔
 ”کشمیری پنڈت“ آخر ہیں کون؟ اگر شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی تصنیف ”آتش چنار“ میں ”آہ برہمن زادگانِ زندہ دل“ کا مطالعہ کریں تو آپ کو پنڈتوں سے متعلق بہت سارے حقائق معلوم ہوں گے۔ شیخ محمد عبداللہ لکھتے ہیں کہ کشمیری پنڈت کی اصطلاح مغل شہنشاہ محمد شاہ کی ہے جنہوں نے اپنے ایک درباری جئے رام بھان کی استدعا پر ایک فرمان جاری کیا تھا کہ کشمیری برہمنوں کو کشمیری پنڈت کہہ کر پکارا جائے۔ کشمیری پنڈتوں کو کشمیر سے وابستگی پر فخر تھا۔ انہوں نے اپنا الگ دھرم کشمیری شیومت اختیار کیا۔ کشمیر میں اپنے لئے باقی ہندوستان سے الگ رسوم اور تہوار مقرر کئے۔ وہ دیوالی نہ مناتے تھے۔ شیوراتری مناتے تھے۔ حتیٰ کہ متوازی گنگا سنگم تیرتھ بھی ایجاد کرلیا تھا۔ اس وقت ہندومسلم میں کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ البتہ کشمیری پنڈت ہمیشہ ارباب اقتدار کے قریب رہے۔ اسلام کی حقانیت سے متاثر ہوکر کتنوں ہی نے اسلام قبول کیا۔ البتہ اعلیٰ طبقہ اپنے دھرم پر ڈٹا رہا۔ سلطان سکندر کے دور میں ایک کشمیری برہمن سبہ بٹ نے اسلام قبول کیا اور اپنی بیٹی سلطان کے نکاح میں دے دیا۔ جس سے کشمیری پنڈت ناراض ہوئے اور انہوں نے سلطان کے اقتدار کے خلاف سازشیں شروع کیں۔ نومسلم سیہ بٹ نے اپنے مفاد کے لئے برہمنوں کے خلاف سازشیں کیں۔ مگر سلطان سکندر کے فرزند سلطان زین العابدین نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے روٹھے ہوئے برہمنوں کو کشمیر واپس لانے کے لئے اپنے وفود جگن ناتھ پوری اور دوسرے علاقوں کو رانہ کئے۔ شیخ عبداللہ نے کشمیری پنڈتوں کو قابل ترین قوم قرار دیا جن کی ذہانت اور لیاقت بے مثال تھی۔ انگریزی تعلیم وہ آگے رہے۔ اور انتظامی عہدوں پر چھائے رہے۔ جب پنجاب سے آنے والے متعدد ہندو افسروں کا سامنا ہوا تو ریاستی ملازمتوں پر مقامی باشندوں کے حق کے لئے آواز اٹھائی۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ دفعہ 370 سے سب سے زیادہ فائدہ کشمیری پنڈتوں نے اٹھایا۔
 1931ء میں کشمیر کی تحریک آزادی شروع ہوئی تو ڈوگرہ مہاراجاؤں نے کشمیری پنڈتوں کا خوب استحصال کیا اور اس زمانے کے میڈیا میں کشمیری پنڈت خطرے میں‘ کا شور برپا کرڈالا۔ انہوں نے کولگام میں علیحدہ پنڈت وطن کا مطالبہ بھی کیا۔
 بہرحال شیخ عبداللہ نے یہ تلخ حقیقت لکھی کہ کشمیری پنڈت اگرچہ تعداد یا مقدار آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور ان کے بغیر کشمیر کا مزہ ہی پھیکا پڑجائے گا۔ یہ بھی حقیقت اپنی جگہ ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں کشمیری پنڈت ظلم و حبر کے آلات کی حیثیت سے سامنے آتے رہے ہیں۔
 شیخ عبداللہ مرحوم نے یہ کتاب گزشتہ صدی میں لکھی۔ اور آج کے حالات کے پس منظر میں کشمیری پنڈتوں کا رول کچھ مختلف نہیں ہے۔ وہ بلاشبہ کشمیر کا لازمی جز ہیں۔ انہیں وہاں سے منصوبہ بند طریقہ سے نکالا گیا تاکہ کشمیر کی دوسری آبادی پر ظلم ڈھایا جاسکے۔ بی جے پی حکومت نے کشمیر کے خصوصی موقف کو برخواست کیا۔ ظاہر ہے کہ اگر پنڈت کشمیر واپس آبھی جاتے ہیں تو ا بھی تک جو خصوصی مراعات انہیں حاصل رہیں۔ اس سے وہ محروم رہیں گے یا پھر حکومت ایک نئی پالیسی کے تحت نئی خصوصی مراعات فراہم کرے گی‘ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
 یوپی کے بشمول چار ریاستوں میں بی جے پی اپنی شاندار کامیابی کے نشہ میں چور ہے۔ وہ ہندوستان کو ہندو راشٹرا بنانے کے وعدہ کی تکمیل کی ضرور کوشش کرے گی۔ عالمی برادری میں ”ہندو راشٹر“ کی پوزیشن کیا ہوگی۔ اس کا اندازہ آپ لگاسکتے ہیں۔ آج ہندوستان کی اہمیت‘ قدر و منزلت اس لئے ہے کہ یہاں دوسرے مذاہب کے ماننے والے موجود ہیں۔ کل بھی رہیں گے۔ جائیں گے کہاں۔ ہاں! اگر انہیں دوسرے درجہ کے شہری بنانے کی کوشش کی گئی‘ انہیں جانی و مالی نقصان پہنچایا جاتا رہے گا تو ساری دنیا مخالفت کرے یا نہ کرے کچھ تو ممالک ہوں گے جو اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔
 ”کشمیر فائلس“ کو کامیابی ملی ہے تو اس میں کوئی خاص بات نہیں ہے‘ کیوں کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں خود پروپگنڈہ کرنے لگیں تو کامیابی تو ملنی ہی ہے۔ کسی نے سوشیل میڈیا پر خوب لکھا کہ گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ہوا‘ مردآباد کی عیدگاہ میں تین سو سے زائد مسلمان مارے گئے۔ مظفرنگر میں قیامت صغریٰ برپا کی گئی، دہلی فسادات میں پولیس کی موجودگی میں مسلمانوں کو ہر طرح سے نقصان پہنچایا گیا۔ کسی کا دل ہمدردی سے نہیں تڑپا۔ کسی نے ڈاکومنٹری نہیں بنائی اور 89 پنڈتوں کی ہلاکت کو نسل کشی قرار دیا گیا۔ ممتاز دانشور جناب سلمان غازی کے مطابق لگ بھگ 59ہزار برہمن کشمیری پنڈت خاندان وادی کشمیر سے نقل مقام کرنے کے بعد ہندوستان بھر میں مفت قیام، طعام، بچوں کی تعلیم کی سہولتیں حاصل کررہے ہیں۔ جبکہ پانچ لاکھ سے زائد بے گھر کئے گئے مسلمان ابتداء میں رفیوجی کیمپس میں رہنے کے لئے مجبور ہوئے اور جب نریندر مودی نے یہ کیمپس بند کردیئے تو وہ گلیوں اور فٹ پاتھوں پر رہنے لگے۔ کشمیری پنڈت گزشتہ 20برس سے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر قابض ہیں اور ساؤتھ دہلی کی سرکاری رہائش گاہوں میں مفت قیام کئے ہوئے ہیں جبکہ گجرات میں مسلمانوں کو نہ تو کرایہ پر گھر ملتا ہے نہ ہی کوئی انہیں فروخت کرتا ہے۔نقل مقام کرنے والے کشمیری پنڈتوں کی املاک و جائیداد کے تحفظ کے لئے باقاعدہ J&K Migrants Immovable Property Act 97 اور جموں و کشمیر مائگرینٹ ایکٹس 97 بنائے گئے۔ اس کے برخلاف گجراتی مسلمانوں کو ان کی جائیدادیں فروخت کرنے کے لئے مجبور کرنے کی غرض سے Disturbed Areas Act متعارف کیا گیا۔ مسلمانوں کو ہندو اپنے مکانات فروخت نہیں کرسکتے۔ 1990ء میں وادی کشمیر سے کسی کشمیری پنڈت کے خاندان سے وادی چھوڑ کر جانے والے کے ایک فرد کو مرکزی حکومت کے اداروں میں ملازمت اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کی سہولت دی گئی۔ گجرات فسادات کے کسی بھی متاثر کو کوئی ملازمت تو دور کی بات ہے‘ بیشتر کو گرفتار کیا گیا اور جانے کتنوں کو انکاؤنٹر میں مارا گیا۔ بیشتر ریاستوں کے سرکاری پرفیشنل کالجس میں کشمیری پنڈت پناہ گزینوں کیلئے سیٹ ریزرویشن کی سہولت اور گجرات فسادات کے متاثر مسلم بچوں کے ساتھ اسکولوں میں تک امتیاز برتا جارہا ہے۔آج سے گیارہ برس پہلے تک کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری کے لئے 1618کروڑ روپئے خرچ کئے گئے تھے۔ یہ ہے میرے مہان بھارت کی صورتحال۔
 بی جے پی حکومت اپنے منصوبہ کی تکمیل میں کامیاب ہے۔ اس نے کانگریس کو بے وزن کردیا۔ غلام نبی آزاد‘ کپل سبل جیسے ہیوی ویٹس کو کسی نہ کسی طرح سے کانگریس پارٹی قیادت کے خلاف کردیا۔ اڑتی اڑتی خبر ہے کہ غلام نبی آزاد کو صدر جمہوریہ کے عہدہ کا امیدوار بنایا جارہا ہے۔ اس سے کشمیری باشندوں کے زخم تو مندمل نہیں ہوں گے‘ کیوں کہ وہ نہ تو فاروق عبداللہ کو اور نہ ہی آزاد کو اپنا ہمدرد تسلیم کرتے ہیں۔
 ”کشمیر فائلس“ سے بہت پہلے سے بالی ووڈ کے خان فرقہ پرستوں کی زد میں رہے ہیں۔ حالانکہ شاہ رخ خان، سلمان، عامر کا مسلم سماج سے بس اتنا ہی تعلق ہے کہ ان کے نام مسلم ہیں‘ ورنہ اپنے مشرکانہ افعال سے وہ دائرہ اسلام سے کبھی کے خارج ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی کامیابی اور عوامی مقبولیت آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ شاہ رخ خان ہمیشہ سے نشانہ پر ہیں۔ سلمان خان نے مودی کی قربت حاصل کی مگر ان کے حریف ویویک اوبرائے نے فلم ”مودی“ میں نریندر مودی کا رول ادا کرکے کچھ کمرشیل ا ڈورٹائزمنٹ ضرور حاصل کرلئے۔ بالی ووڈ کے خان صاحبان کو اب بھی ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ آج نہیں تو کل انڈر ورلڈ سے تعلقات، منی لانڈرنگ اور کئی الزامات کے تحت ان پر مقدمات دائر کرکے ان کے اثاثہ جات ضبط کئے جاسکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ایسا ہو خان صاحبان اپنی دولت کو کمیونٹی ویلفیر کے لئے وقف کردیں۔ ہاسپٹلس، یتیم خانے اسکولس قائم کردیں تاکہ انسانیت کی خدمت ہوسکے۔ ورنہ کل ہاتھ ملتے رہے جائیں گے۔