یکساں سول کوڈ آئین مخالف، مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت دی جائے، سپریم کورٹ میں مضبوطی سے لڑا جائے گا حجاب کیس۔ لکھنؤ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ میں لیے گئے کئی اہم فیصلے۔
لکھنؤ: (سعیدہاشمی)
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مجوزہ یک روزہ مجلس عاملہ کا اجلاس اتوارکے روز صبح دس بجے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں منعقد ہوا، حیران کن امریہ ہے کہ بورڈ کی میٹنگ سے میڈیااہلکاروں کو دوررکھا گیااور ساتھ ہی بورڈ کے سابقہ رکن اوراجلاس میں کوئ خلل واقع نہ ہو اسکے لۓ مین گیٹ پر داخلے پر سختی برتی گئ۔ حجاب اوریکساں سول کوڈ جیسے اہم اورحساس معاملے کو لیکربورڈ کے ارکان میں کافی فکرمندی دیکھنے کو ملی اوربیرسٹراسدالدین اویسی کی بیباکی اور سابق بورڈ کے ترجمان مولاناخلیل الرحمن سجادنعمانی ملت اسلامیہ ہند کے تئیں فکرمندی اوربیباکی کے چرچے بھی ارکان بورڈ اوربہی خواہان کے زبان زد عام نظرآے۔
اجلاس کے تعلق سے پہلے روز اجلاس کی خبر کو آخری مرحلے میں میڈیامیں نہ شائع ہونے کی حکمت عملی بھی سامنے آئ، تاہم  بورڈ کے اہم ممبرڈاکٹر قاسم الیاس رسول نے بتایاکہ اس اجلاس میں ہندوستان کے آئین نے جو حق تمام قبائل و ذات اور مذاہب کے ماننے والے کو دیا ہے کامن سول کوڈ اس کی واضح طورپر مخالفت کرتا ہے۔ ہر شہری اپنے طور طریقے سے زندگی گزارنے کے لئے آزاد ہے ایسے میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ کرنا آئینی نقطۂ نظر سے غلط ہوگا۔ 
انہوں نے مزید بتایاکہ میٹنگ میں کچھ اہم مسائل پر غور و فکر کیا گیا۔ عملی جامہ پہنانے پر بھی اتفاق ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حجاب معاملے پر بھی میٹنگ میں گفتگو ہوئی۔ اس میں خاص طور سے کرناٹک میں حجاب پہن کر مسلم لڑکیاں اسکول، تعلیمی اداروں میں جا سکیں اس کے لیے کرناٹک حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ انہیں تب تک حجاب پہننے کی اجازت دی جائے جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آتا ہے۔    
سیدڈاکٹرقاسم رسول نے کہا کہ بورڈ نے طے کیا ہے کہ حجاب معاملے کو عدالت عُظمیٰ میں مضبوطی کے ساتھ لڑا جائے گا اور امید ہے کہ مثبت نتائج آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سپریم کورٹ کا حجاب پر کوئی بھی فیصلہ نہیں آتا تب تک حکومت اس بات کی اجازت دے کہ مسلم لڑکیاں حجاب پہن کر کے تعلیمی ادارے میں داخل ہوں۔ قاسم الیاس رسول نے کہا کہ بھارتی آئین نے جو حق تمام قبائل و ذات اور مذاہب کے ماننے والے کو دیا ہے کامن سول کوڈ اس کی مخالفت کرتا ہے۔ ہر شہری اپنے طور طریقے سے زندگی گزارنے کے لئے آزاد ہے۔ ایسے میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ کرنا آئینی نقطۂ نظر سے غلط ہوگا۔

موصوف نے مزید کہا کہ 'دوسری اہم بات پر بھی غور و فکر کیا گیا کہ موجودہ دور میں عدالتیں مذہبی کتابوں کی تشریح اپنے طریقے سے کر رہی ہیں جو کہ بہت تشویشناک ہے۔ اس مسئلہ پر بھی بورڈ کے تمام اراکین نے گفتگو کی اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ میں بی جے پی دوبارہ اقتدار میں واپسی کر چکی ہے اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا ہے اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کیا گیا ہے۔ پرسنل لاء بورڈ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔ اس کے لیے ملک کے متعدد صوبوں میں قبائلی تنظیموں اور ہندو مذہب میں خصوصی درجہ یافتہ ذات و قبائل سے رابطہ کرکے اس کی بھرپور مخالفت کی تیاریوں میں ہے۔
آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے قومی صدر مولاناسیدرابع حسنی ندوی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں جمعیتہ علماء ہند کے قومی صدرمولانا سید ارشدمدنی، بورڈ کے جنرل سکریٹری مفتی خالد سیف اللہ رحمانی, مولانامحمدسفیان قاسمی, مولانا خالدرشیدفرنگی محلی، سید سعادت اللہ حسینی رحمانی، مولانامصطفے رفاہی ندوی, مولانامحفوظ عمرین رحمانی، مولاناانیس الرحمن پٹنہ, ڈاکٹرقاسم رسول الیاس، کمال فاروقی, مسعوداحمد اورخواتین ممبران میں ڈاکٹراسماء زہرا,محترمہ نگہت پروین لکھنو وغیرہ عاملہ کے اجلاس میں شرکت کی۔

DT Network
Sameer Chaudhary