دیوبند سے گرفتار نوجوان کے متعلق اے ٹی ایس کا سنسنی خیز دعویٰ، ملک مخالف سرگرمیوں کے علاوہ لشکریہ طبیہ سے بھی ہے تعلق۔
دیوبند:(سمیر چودھری)
یوپی اے ٹی ایس کے ذریعہ دو روز قبل دیوبند سے گرفتار کئے گئے تین نوجوان میں سے ایک پراے ٹی ایس نے انتہائی سنسنی خیز الزامات لگائے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ نوجوان ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل ہے، حالانکہ یوپی اے ٹی ایس نے ملزم کے پاس سے کوئی بھی مشتبہ چیز برآمد نہیں کی ہے۔جبکہ اس کے دو ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے جانچ کی کارروائی کی جارہی ہے۔
گزشتہ دو روز قبل یوپی اے ٹی ایس نے دیوبند میں بڑی کاررائی کرتے ہوئے یہاں سے تین نوجوانوں کو حراست میں لیا تھا،بتایاجارہاہے یہ کسی ادارہ میں زیر تعلیم تھے، ان کے سلسلہ میں اے ٹی ایس نے پریس نوٹ جاری کرکے بتایاکہ انعام الحق عرف انعام امتیاز ولد امتیاز میاں ساکن گاؤں پٹنہ، تھانہ گاوا، ضلع گرریڑیہی،جھارکھنڈ، مقیم حال کمرہ نمبر 19، نجمی منزل دیوبند، ضلع سہارنپور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ فیس بک پیج اور یوٹیوب چینل وغیرہ کے ذریعے انعام الحق کی جہاد سے متعلق ویڈیوز ڈالتا ہے اور دوسروں کو جہاد کی ترغیب دے رہاتھا۔جس کے خلاف اے ٹی ایس گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل سرگرم تھی، وہ آتنکی تربیت کے لیے پاکستان بھی جانا چاہتا تھا۔ انعام الحق ایک اور شخص کے ذریعے لشکر طیبہ کے دہشت گردوں سے جڑا ہوا تھا جس سے اس نے اسلحہ اور تربیت حاصل کرنی تھی۔ وہ مختلف واٹس ایپ گروپس کے ذریعے پاکستان، بنگلہ دیش اورافغانستان اور دوسرے ممالک کے لوگوں کے رابطہ میں تھا۔ مندرجہ بالا حقائق اور فیلڈ یونٹ سہارنپور کے تجزیے کے بعد انعام الحق عرف انعام امتیازکے خلاف انکوائری اور انٹیلی جنس سے موصولہ حقائق کی تصدیق کے بعدگرفتاری عمل میں لائی گئی اور دیوبند سہارنپور میں مقدمہ درج کیا گیا۔ 

اس کے علاوہ اس کیس میں محمد فرقان علی اور انعام الحق کے ہاسٹل کے ساتھی نبیل خان ساکن مظفر نگر کے ملوث ہونے کے سلسلے میں، فی الحال دستیاب شواہد کی جانچ کی بنیاد پر، دفعہ 108 Cr.P.S. تھانہ کوتوالی نگر، ضلع مظفر نگر کے تحت مقدمہ درج کیاگیاہے۔دونوں کے خلاف کی جانچ کی جارہی ہے۔