کتنا سستا ہے میاں شعر وسخن کا سودا - جس کو دیکھو وہ ہی استاد بنا بیٹھا ہے۔ بزم ادب دیوبند کے زیر اہتمام شعری نشست کا انعقاد۔
دیوبند:(سمیر چودھری)
بزم ادب دیوبند کے زیر اہتمام ایک شعری نشست کا انعقاد محلہ بڑضیاؤ الحق میں مولانا سید عبد القادر کی رہائش گاہ پر کیا گیا۔ نشست کی صدارت ڈاکٹر شمیم دیوبندی نے کی اور نظامت کے فرائض ذکی انجم نے انجام دئیے۔ اس شعری نشست میں مہمان خصوصی کے طور پر حکیم عبد اللہ، قاری ندیم اور فہیم علوی نے شرکت کی۔
نشست کا آغاز نور دیوبندی کی نعمت پاک سے ہوا۔ نشست  شعرائے کرام کے کلام کو سامعین نے بہت پسند کیا۔ چنندہ اشعار قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔
اس کو مزدور کیوں بناتے ہو ٭ وہ جو بچہ کتاب مانگے ہے : ڈاکٹر شمیم دیوبندی
کتنا سستا ہے میاں شعر وسخن کا سودا ٭جس کو دیکھو وہ ہی استاد بنا بیٹھا ہے: ذکی انجم
مجھے اس کا تکلف یہ ہمیشہ یاد آتا ہے ٭وہ کہتاتھا میری خاطر زمانہ چھوڑسکتا ہے: ڈاکٹر صادق دیوبندی
نور اپنے ہی دغا کرنے لگے ٭ سامنے یہ کیسا منظر آگیا : نور دیوبندی
مجبوریئ حالات کا طوفان بہت ہے ٭ رہ جائے اگر باقی میری آن بہت ہے: ڈاکٹر عدنان انور

ان کے علاوہ ڈاکٹر سلمان دلکش، چاند دیوبندی، تنویر اجمل اور دیگر شعراء نے بھی اپنے شاندار اشعار پیش کرکے داد تحسین حاصل کی۔ اس شعری نشست میں اسجد واجدی، محمد سلیم، ماسٹر کاشف حسین، عمر غزالی عثمانی، عباد اللہ، عبید اللہ، ذکی اللہ، عبد الباری، معاذ، ہشیم صدیقی،  منیب انصای، امداد اللہ، ڈاکٹر اسامہ، رمیز انصاری بطور خاص موجود رہے۔ شعری نشست کے اختتام پر پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر ایس اے عزیز نے تمام شعراء اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔