حجاب سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ ملک اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ: مولانا محمود مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند۔
نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے ذریعہ حجاب سے متعلق فیصلے پر اپنے روعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کو ملک اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا، انھوں نے کہا کہ اس سے مذہبی آزادی پر براہ راست اثر پڑے گا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی سماج صرف قانونی باریکیوں سے نہیں چلتا بلکہ سماجی اور روایتی طور پر اس کا قابل قبول ہونا بھی ضروری ہے۔ 
انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے کئی منفی اثرات مرتب ہوں گے، بالخصوص مسلم بچیوں کی تعلیم پراثر پڑے گا اور وہ موجودہ پیدا کردہ صورت حال میں اپنی آزادی اور اعتما دکھودیں گی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی بہت ہی قدیم روایت اور تہذیب ہے، بالخصوص مسلم خواتین کے عقیدے وتصور میں صدیوں سے پردہ اور حیا کی ضرورت و اہمیت ثبت ہے ،اسے صرف عدالت کے فیصلے سے مٹایا نہیں جا سکتا۔
مولا نامدنی نے اس امر پر زور دیا کہ فیصلہ جس مذہب کے بارے میں کیا جارہا ہے، اس کے مسلمہ عقائد ،اس مذہب کے مستند علماء وفقہا کے اعتبار سے ہونا چاہیے، عدالتوں کو اس پر اپنی طرف سے علیحدہ راہ اختیار نہیں کرنی چاہیے۔

مولا نامدنی نے ریاستی سرکاروں اور ملک کی مرکزی حکومت کو متوجہ کیا کہ وہ کسی قوم کی مسلمہ تہذیب و روایت ( پرمپرا ) اور عقیدے کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کر یں اورا گر مسئلہ عدالت سے حل نہ ہوتو جمہوریت میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو قانون بنانے کا پورا حق ہوتا ہے، اس لیے قومی مفاد( راشٹر ہت ) میں قانون سازاداروں کو اقدام کرنا چاہیے۔ مولانا محمود مدنی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر احتجاج اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گریز کریں اور صبر وثبات کا مظاہرہ کریں۔

سمیر چودھری۔