عدالت کا فیصلہ غیر آئینی اور مسلمانوں کے جمہوری و مذہبی حقوق کے خلاف ہے۔ مولانا حکیم عبداللہ مغیثی۔
سہارنپور: کرناٹک ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی مذہبی حصہ نہیں ہے۔ جس پر آل انڈیا ملی کونسل قومی صدر اور ملک کے ممتاز عالم دین مولانا حکیم عبداللہ مغیثی نے اپنے سخت سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے یہ فیصلہ بالکل غیر آئینی اور مسلمانوں کے جمہوری و مذہبی حقوق کے خلاف ہے، یہ اس قابل ہے کہ اسے عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کیا جایے۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالت کا دلیل کے طور پر یہ کہنا کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی مذہبی حصہ نہیں ہے دراصل اسلام سے عدم واقفیت اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔حجاب اسلام کا ایک اہم حصہ ہے جسے شریعت نے خواتین و معاشرے کے تحفظ کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے،لہذا اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے
کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب معاملے پر آئے فیصلے کو لے کر ملی کونسل سہارنپور کے صدر مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلے ہی اسلاموفوبیا کے خطرات بہت زیادہ بڑھ رہے ہیں اور مسلمان، انکے مکاتب و مدارس اور ان کی مساجد کو مسلسل نفرت کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس سے وہ اپنے حقوق کے حوالے سے بہت زیادہ فکر مند ہیں اور اب ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے انھیں شدید دھچکا لگا ہے جسکی انھیں قطعی توقع نھیں تھیں۔ عدالت کے اس طرح کے فیصلے خواتین کو آزادی دینے کی بجاے انھیں معاشرتی زندگی سے ہی نکال باہر کریں گے۔ حجاب پر پابندی درحقیقت جہاں اسلامی اصول اور شریعت کے حقوق پر حملہ ہے وہیں یہ انسانی حقوق کے معیارات اور خاص طور پر کسی کی نجی زندگی اور ذاتی شناخت کے احترام کے بھی منافی ہے۔
حجاب اسلام کا ایک اہم حصہ ہے جسے شریعت نے خواتین و معاشرے کے تحفظ کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے،لہذا اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور ہمیں یقین ہے کہ علماء اور دانشوران وہاں اس بات کو ثابت کریں گے اور عدالت حجاب کے ساتھ ضرور انصاف کریگی۔

سمیر چودھری۔