اور بی جے پی پھر جیت گئی۔۔۔! نازش ہما قاسمی۔
ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج آگئے ہیں۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی نے کانگریس سے اقتدار چھین لیا تو وہیں اترپردیش، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور میں دوبارہ بی جے پی آگئی۔ اتراکھنڈ، منی پور اور گوا کی اسمبلیاں اتنی اہم نہیں تھیں جتنی کہ یوپی کی اسمبلی تھی۔ یوپی میں اپوزیشن پارٹیوں سمیت بی جے پی نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا۔ 
اپوزیشن پارٹیاں مختلف خیموں میں بٹی ہوئی تھیں اور بی جے پی تن تنہا الیکشن لڑرہی تھی، نتائج جب آئے تو اپوزیشن پارٹیاں چاروں خانے چت نظر آئیں۔ بی جے پی اترپردیش کی ۴۰۳ سیٹوں والی اسمبلی میں ۲۷۳ سیٹ جیت گئی؛ جبکہ سماج وادی پارٹی ۱۲۵ ، کانگریس ۲ بہوجن سماج پارٹی ایک اور دیگر کے حصے میں دو سیٹیں آئیں ۔ بی جے پی کا اترپردیش میں ۴۱ اعشاریہ ۲ فیصد ووٹ پرسنٹ تھا؛ جبکہ سماج وادی ۳۴ ااعشاریہ ۸ فیصد، کانگریس ۲اعشاریہ ۳، بہوجن سماج وادی پارٹی ۱۲ اعشاریہ ۸ اور دیگر جس میں اویسی کی پارٹی بھی شامل تھی اسے ۸ اعشاریہ ۹ فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ صرف اویسی کی پارٹی کو صفر اعشاریہ ۴۹ فیصد ووٹ ملے۔جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اویسی کی ریلیوں میں جو بھیڑ تھی وہ صرف نمائشی تھی انہیں مسلمانوں نے خاطر میں نہیں لایا اور مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔ دوسری طرف سماج وادی پارٹی کو مسلمانوں نے بھر پور تعاون دیا؛ لیکن بہار کی طرح یادئووں نے یادئوں سے غداری کی اور سماج وادی پارٹی ۱۰ مارچ کو ہم آئیں گے کا سپنا پورا کرنے سے قاصر رہی۔ مایاوتی نے تو ابتدا سے ہی کنفیوژن پھیلا رکھا تھا؛ لیکن ہار کے بعد سیدھے ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑ دیا کہ مسلمانوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیا اور یہ سچ ہے کہ مسلمانوں نے واقعی مایاوتی کو ووٹ نہیں دیا؛ لیکن مایاوتی جسے اپنے دلت ووٹ بینک پر اعتبار تھا اس نے بھی تو مایاوتی کو ووٹ نہیں دیا پھر کیوں نہیں اس نے دلتوں کو مورد الزام ٹھہرایا؟.... مسلمانوں کے سر ہی ٹھیکرا کیوں پھوڑا گیا؟ ۔ اس لیے کہ مسلمانوں کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم کا جنازہ اپنے کاندھوں پر ڈھوئے اگر ایسا نہیں تھا تو اسے چاہئے تھا کہ کسی بھی سیکولر پارٹی کا دامن نہ تھامتے ہوئے سیدھے اپنی قیادت پر بھروسہ کرتے جس طرح دلت یادوئوں سمیت دیگر ہندوئوں نے بی جے پی پر بھروسہ کیا اور اکثریت سے اسے کامیاب کردیا۔ بی جے پی کو کسی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے وہ خوش ہے؛ لیکن ناخوش نام نہاد سیکولر پارٹیاں ہیں۔
اس الیکشن میں ایک بات یہ واضح ہوگئی کہ کانگریس اب بطور اپوزیشن بھی منظور نہیں ہے ۔ پنجاب میں جس طرح سے عام آدمی پارٹی نے جھاڑو پھیرا ہے اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ کانگریس کو ملک سے اکھاڑنے پھینکنے میں این ڈی اے اور عام آدمی پارٹی متحد ہیں اور دونوں کو ہی سنگھ ہینڈل کر رہا ہے؛ ورنہ کیا وجہ ہے کہ یوپی میں عام آدمی پارٹی نے برائے نام بھی کوشش نہیں کی، اگر عام آدمی پارٹی نے پنجاب کی طرح یوپی میں بھی دلچسپی دکھائی ہوتی تو ہندو ووٹ بری طرح تقسیم ہوتا اور بی جے پی کسی بھی قیمت پر یوپی میں حکومت نہیں بنا پاتی۔ جلد ہی کانگریس کا مکمل صفایاکرنے کےلئے کیجری وال کو دیگر ریاستوں کے اسمبلی الیکشن میں بھی پوری طاقت سے کھڑا کیا جائے اور ممکن ہے کہ پنجاب کی طرح وہاں بھی عام آدمی پارٹی کامیاب ہوجائے۔ 

یوپی الیکشن کو لوک سبھا الیکشن کے زینہ کے طور پر استعمال کیاجاتا ہے۔ بی جے پی پر عزم ہے کہ ۲۰۲۴ کے عام انتخابات میں مرکز میں پھر تیسری بار ہماری حکومت قائم ہوگی اور عین ممکن ہے کہ قائم بھی ہوجائے؛ کیوں کہ اپوزیشن نے پے درپے شکست سے کچھ حاصل نہیں کیا وہ حکمراں جماعت کو ہر محاذ پر گھیرنے میں ناکام رہی۔ اگر اپوزیشن میں وہ طاقت و قوت ہوتی جو حالیہ برسراقتدار پارٹی کو ہے تو پھر بیروزگاری، مہنگائی، کورونا بحران میں حکومت کی نااہلی، رافیل معاملہ ، گنگا میں تیرتی لاشیں، شمشان و قبرستان میں جلانے اور دفنانے کے منتظر مردے، این آر سی اور سی اے اے احتجاج سمیت کسانوں کا احتجاج بے اثر و رائیگاں نہیں جاتا ۔ ان سب معاملوں پر اپوزیشن اچھی طرح سے گرفت کرسکتی تھی؛ لیکن ناکام رہی۔ بی جے پی کا ہندو تو ا ایجنڈہ سبھی پر بھاری رہا، بی جے پی کے ووٹروں کے لیے مہنگائی وبیروزگاری آڑے نہیں آئی؛ بلکہ وہ اس خوشی میں مگن رہے کہ اگر ہم بی جے پی کو لائیں گے تو عظیم الشان مندر میں پوجا کی اجازت ہوگی، انہیں تعلیم سے کوئی سروکار نہیں وہ اس میں ہی خوش ہیں کہ مسلمانوں پر یہ حکومت شکنجہ کسے گی اور ان کا جینا دوبھر کرکے رکھ دے گی اور جب یہ ذہن لیڈران سمیت عام ووٹروں کا ہوجائے تو پھر نفرت ہی کی جیت ہوتی ہے، محبت ہار جاتی ہے۔ اب ملک میں ۸۰ بمقابلہ ۲۰ طویل عرصے تک جائے گا اور بی جے پی کی حکومت ابھی صرف آدھے ہندوستان پر ہے جلد ہی پورے ملک میں قائم ہوجائے گی پھر دھیرے دھیرے تمام اختیارات وغیرہ آر ایس ایس سنبھال لے گا جب جاکر ان کا ہندو راشٹر کا خواب پورا ہوگا؛ کیوں کہ آر ایس ایس ایک عزم اور مقصد کے تحت کام کررہی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جو بھی اپنے مقصد کو پانے کی دھن میں اپنا سب کچھ دائو پر لگادیتا ہے وہ کامیاب ہوجاتا ہے آر ایس ایس بھی کامیاب ہوجائے گی۔ انہیں اب بھی روکا جاسکتا ہے؛ لیکن شاید اپوزیشن پارٹیاں روکنا ہی نہیں چاہتی اور آر ایس ایس کو کامیاب کرنے میں وہ بھی برابر کی حصہ داری لینا چاہتی ہیں. اپوزیشن پارٹیاں برسر اقتدار پارٹی کے "وجے رتھ" کو روکنے کے لیے جتنی دیر سے کھڑی ہونگی ان کو اتنی ہی زیادہ قربانیاں دینی پڑیں گی۔