اردو کا مستقبل اور ہماری ذمہ داری: ڈاکٹر تنویر گوہؔر 
   اُتر آئی ہے دھرتی پر کسی کے فیض سے ورنہ
   یہ اردو تو ستاروں کی زباں معلوم ہوتی ہے

یقیناً شاعر نے سچ کہا ہے کہ ہم جس زبان کے بولنے اور برتنے والے ہیں اُس کی خوبی یہ ہے کہ وہ اسی دھرتی کی زبان ہونے کے باوجود اپنی بے پناہ خوبصورتی اور شیرینی کی بنا پر ستاروں کی سی زبان معلوم ہوتی ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ آج ہم اپنی اسی ستاروں کی سی زبان جو کہ ہماری مادری زبان بھی ہے کے مستقبل کو لیکر ذرا بھی سنجیدہ نظر نہیں آتے کہ اس زبان کی بقا اور مستقبل کے تئیں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں؟۔آج اسی Topic پر کچھ بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔
دراصل زبان اردو کی بقا اور مستقبل کا براہ راست تعلق ہماری ذمہ داریوں ہی سے وابستہ ہے۔ اردو کے فروغ،ترویج و ترقی اور بقا کے لئے ہم اہلِ اردو کی Responsibilities کیا ہیں جب تک ہم اس بات کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا نہیں ہوں گے تب تک زبان اردو کا مستقبل محفوظ نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے آج زبان اردو کو ضرورت ہے ایسے اداروں، مکاتب،تنظیموں، لائبریریوں اور کتب خانوں کی جو اپنی اپنی سطح پر اردو کے فروغ، ترویج و ترقی اور بقا کے لئے ایمانداری سے کام کر تے ہو ئے اپنی ذمہ داری کو انجام دے سکیں۔آج اردو کو ضرورت ہے ایسے جاں نثاروں کی جو کہ گھر گھر جا کر لوگوں کے سامنے اردو زبان کی خصوصیات بیان کر سکیں اور انہیں بتا سکیں کہ یہ زبان ہی وہ زبان ہے جس نے آزادی کے متوالوں کو انقلاب زندہ باد کا نعرہ دیا۔
       اردو کے مستقبل کو تابناک اور روشن بنانے کے لئے بہت سی کوششیں اور کاوشیں کی جا سکتی ہیں۔ مثلا ًاردو مضمون میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات کو انعام و اکرام سے نواز کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ آج کے طلبہ و طالبات ہی مستقبل میں اردو کی بقا کی ضمانت ہو سکتے ہیں۔
ہم اہل اردو عوام الناس کو اس بات پر راضی کریں کہ اپنے تمام سرکاری کام ،تمام درخواستیں، بینک فارم وغیرہ اردو میں ہی پُر کریں۔عوام کو سمجھایا جائے کہ ہر سرکاری محکمے میں اردو مترجم موجود ہے اور اردو رسم الخط میں بھی آپ کا کام یقینی طور پر مکمل ہوگا۔ تاکہ حکومتوں کو بھی محسوس ہو کہ جن لوگوں کی تقرری ہم نے اردو کے نام پر کی ہے حقیقت میں ہی عوام کو ان کی ضرورت ہے اور ہماری حکومتیں سنجیدگی کے ساتھ اردو ملازموں کو اہمیت بھی دیں اور جہاں جہاں اردو کی نشستیں خالی ہیں وہاں اردو والوں کو نوکری بھی مل سکے۔تاکہ اہل اردو کو روزگار بھی مہیا ہو اور اردو کا مستقبل بھی محفوظ رہے۔
اگر ہم سنجیدگی سے غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ آزادی کے بعد اردو کے ساتھ ظلم اور نا انصافیاں ہوئی ہیں اگر ہمارے مدارس اور ادباء وشعراء اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے کوششیں اور کاوشیں نہ کرتے تو شاید جتنی اردو آج ہمارے درمیان باقی ہے وہ بھی نہ رہتی۔ساتھ ہی اس زبان کی شیرینی، خوبصورتی اور مقنا طیسی کشش کا کمال بھی ہے کہ یہ زبان آج بھی ہمارے درمیان اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ موجود ہے۔ بقول شاعر
دشمنِ اردو بھی اردو بولتے ہیں جابجا
یوں بھی اردو کی حکومت ہے حکومت کے بغیر