شریعت کے خلاف کوئی بھی فیصلہ منظور نہیں: آل انڈیا امامس کونسل، مسلم راشٹریہ منچ آر ایس ایس کے ذریعے بنائی گئی تنظیم، مسلم نام سے دھوکہ نہ کھائیں مسلمان۔
ترور، کیرلا: (پریس ریلیز)
آل انڈیا امامس کونسل کی نیشنل کمیٹی میٹنگ منگل کو ”ترور“ (کیرلا) میں منعقد ہوئی، جس میں پورے ملک کے موجودہ حالات کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا گیا۔ بالخصوص کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب کے خلاف حالیہ غیر منصفانہ فیصلے کو ہندستان میں ”اسلاموفوبیا“  کا حصہ قرار دیتے ہوے کونسل نے کہا کہ: ”مسلمانوں کو شریعت کے خلاف کوئی بھی فیصلہ منظور نہیں ہوگا، عدالت کو شریعت سکھانے کا کوئی حق نہیں، شریعت میں کسی بھی طرح کی مداخلت یا رائے زنی دستوری بنیادی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ ہندستان جیسے بہترین سیکولر ملک میں، جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو تمام مذہبی حقوق حاصل ہیں، مسلم کمیونٹی کے ساتھ اس طرح کا جانب دارانہ سلوک کسی بھی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا ہے“۔
کونسل کی نیشنل کمیٹی نے کہا کہ:کرناٹک ہائی کورٹ کا یہ کہنا کہ: ''حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے'' انتہائی جہالت پر مبنی اور متعصبانہ فیصلہ ہے۔ عدالت کا کام فیصلہ سنانا نہیں؛ بلکہ انصاف کرنا ہوتا ہے۔ انصاف سے ہٹ کر فیصلہ سنانا عدالت کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے“۔
 نیشنل کمیٹی میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ:”ملک بھر میں جے شری رام کے نام پر قتل ناحق کو ہر حال میں روکا جائے گا۔ مسلم راشٹریہ منچ آر ایس ایس کے ذریعے 2002 میں بنائی گئی مسلم نام کی تنظیم سے مسلمان بالکل دھوکہ نہ کھائیں۔آج پورے ملک میں مسلم کمیونٹی میں سنگھی نظریہ پھیلانے اور مسلمانوں کو دشمن ملک و قوم سے جوڑنے کا کام کر رہی ہے۔ اس آستین کے سانپ سے عوام کو واقف کرانا اور پہچان کر اس کے تمام ممبران سے سماجی بائیکاٹ کرنا نہایت ضروری ہے“۔

”سنگھ پریوار کی جانب سے 1925 سے لے کر آج تک ملک میں جتنے فسادات ہوے، ان میں قتل و غارت گری کی گئی، بھاگل پور، ممبئی اور میرٹھ کے ہاشم پورہ، و ملیانہ میں، گھروں پر نشانات لگا لگا کر مسلمانوں اور دلتوں کا قتل عام کیا گیا آج ”دی کشمیر فائلس“ کو سچ کا آئینہ بتا کر سینٹرل حکومت ملک کی سالمیت کی بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہے۔ ”دی کشمیر فائلس“ جھوٹ اور پروپیگنڈہ پر مبنی ہے۔ اس ویڈیو کا مقصد مسلمانوں کے خلاف سنگھ پریوار کے ایجنڈے کو کھلے عام پیش کر کے ملک میں خانہ جنگی کو ہوا دینا ہے۔ نیشنل کمیٹی اس کی پرزور مذمت کرتی ہے اور اس کو ملک و عوام کے خلاف خطرناک سازش سمجھتی ہے؛ اس لیے اس پر فوراً پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ 
اسی کے ساتھ آل انڈیا امامس کونسل کی نیشنل کمیٹی تمام دیش کے باشندوں سے اس سازش، دستور مخالف متنفرانہ سرگرمیوں کے خلاف مل کر آواز بلند کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔