دارالعلوم دیوبند کا چمکتا و دمکتا ستارہ: غلام مصطفی عدیل
گزشتہ روز جب آسام ودھان سبھا میں اسپیکر کی کرسی پر ڈاکٹر رفیق الاسلام قاسمی کو دیکھا تو جہاں خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا وہیں یکلخت دل نے یہ صدا دی کہ "ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی" میرا خیال ہے اب علماء کو مزید سیاست سے دوری نہیں بنانی چاہیے، دھیرے دھیرے ہی سہی حق گو و منصف مزاج اشخاص کو دنیا قبول کر‌ کے ہی رہتی ہے۔
ڈاکٹر رفیق الاسلام قاسمی جانیہ ودھان سبھا سیٹ (آسام) سے ایم ایل اے بھی ہیں اور جمعیت علماء آسام کے سیکریٹری بھی، 
ڈاکٹر صاحب انگریزی زبان وادب کی تعلیم مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر سے حاصل کی تھی ۔ حالیہ دنوں میں وہ گوہاٹی یونیورسیٹی میں لیکچرر ہیں اور یو ڈی ایف کے ترجمان بھی ہیں۔
حافظ رفیق الاسلام قاسمی سے پہلے دارالعلوم دیوبند کے ایک اور سپوت مولانا بشیر قاسمی بھی اسپیکر کی کرسی کو زینت بخش چکے ہیں۔
جذبات کی رو سے ہٹ کر اگر اسی طرح سنجیدہ سیاست کو فروغ دیں تو بہت ممکن ہے کہ بھارت کی مسموم فضا پھر سے امن و شانتی کا علم بلند کرتی نظر آئے گی ان شاء اللہ۔

غلام مصطفی عدیل قاسمی
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن و جنرل سیکریٹری رابطہ صحافت اسلامی ہند۔