آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کا یک روزہ مجلس عاملہ کا اجلاس شروع، حجاب اور اسدالدین اویسی کی سیاسی حکمت عملی ہوگی بورڈ بحث کا اہم حصہ۔
لکھنؤ: (سعیدہاشمی ) ملک کے سلگتے ملی مسائل اوریوپی اسمبلی انتخابات میں خاص نظریے کی حامل پارٹی کے اقتدارمیں آنے سے ارباب حل وعقد کے چہروں پر پریشانیوں کی لکیریں کھینچ دیں اورتین طلاق کے بعد کرناٹک ہائ کورٹ کے تعلق سے آۓ فیصلے نے ایک بارپھر مذہبی امورمیں مداخلت کی راہ آسان نظرآرہی ہے _ملت کے اہم امورکولیکربورڈ کے قومی صدر مولاناسیدرابع حسنی ندوی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں جمعیتہ علماء ہند کے قومی صدرمولاناسیدارشدمدنی,بورڈ کے جنرل سکریٹری مفتی خالدخالدسیف اللہ رحمانی,مولانامحمدسفیان قاسمی, مولانا خالدرشیدفرنگی محلی , سید سعادت اللہ حسینی رحمانی ,مولانامصطفے رفاہی ندوی,مولانامحفوظ عمرین رحمانی,مولاناانیس الرحمن پٹنہ,ڈاکٹرقاسم رسول الیاس ,کمال فاروقی,مسعوداحمد اورخواتین ممبران میں ڈاکٹراسماء زہرا,محترمہ نگہت پروین لکھنو وغیرہ عاملہ کی نشست میں شریک ہیں _جبکہ بورڈ کے بیباک ترجمان اورمفتی خالدسیف اللہ رحمانی کو کھلاخط لکھنے والے مولاناخلیل الرحمان سجادنعمانی علالت کی بناپر شرکت نہیں کرسکے_وہیں مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ بیرسٹراسدالدین اویسی کی عدم شرکت موضوع بحث بنی ہوئ ہے_مصدقہ ذرائع کے مطابق گزشتہ اسمبلی انتخابات میں مسٹراویسی کی سرگرمیوں کے تعلق سے بورڈ اہم امورپر کچھ حیران کن فیصلے بھی لے سکتا ہے _بورڈ کے ذرائع کے مطابق کانپور میں گزشتہ سال نومبر میں آئ تجاویز اور ایجنڈے کو عملی جامہ کی شکل دی جاسکتی ہے۔
روزنامہ بیباک بات لکھنؤ۔