دارالعلوم دیوبند پر دہشت گردی کا الزام لگانے والے لاعلمی کاشکار، دارالعلوم دیوبند پی ایم مودی کے خواب مسلمانوں کے ’ایک ہاتھ میں قرآن اور ایک ہاتھ میں کمپیوٹر“ کو پورا کررہاہے، دارالعلوم پہنچے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اشفاق سیفی کا بیان۔
دیوبند:(سمیر چودھری)
اترپردیش اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اشفاق سیفی(درجہ حاصل کابینہ وزیر) نے آج عالمی شہرت یافتہ اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند پہنچ کر ادارے کے مہتمم اور نائب مہتمم سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں دی جانے والی تعلیمات اور حب الوطنی کی تعریف کی اور کہا کہ دارالعلوم دیوبند پر دہشت گردی جیسے الزمات عائد کرنے والے لوگ لاعلمی کا شکار ہیں، انہیں دارالعلوم آنا چاہئے، انہوں نے کہاکہ دارالعلوم دیوبند پی ایم مودی کے مسلمانوں کے ’ایک ہاتھ میں قرآن اور ایک ہاتھ میں کمپیوٹر‘ کے خواب کو پورا کر رہا ہے۔

جمعرات کو اتر پردیش اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اشفاق سیفی اسلامی تعلیمات ممتاز مرکز دارالعلوم دیوبند پہنچے اور یہاں مہمان خانہ میں مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی ونائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدرسی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران جہاں ادارے کے ذمہ داران نے اشفاق سیفی کو ادارے کی تعلیمات اور یہاں کی بے مثال و تاریخی خدمات کے بارے میں تفصیل سے بتایا وہیں چیئرمین کمیشن نے ادارے کے نظام تعلیم و تربیت اور یہاں دی جانے والی حب الوطنی تعلیمات اور پیغات کی خوب تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند ایک عالمی شہرت یافتہ اور تاریخی تعلیمی ادارہ ہے جہاں دینی و عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند اور اس کے علمائے کرام نے ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا ہے، ریشمی رومال تحریک کے بانی شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اسی دارالعلوم دیوبند کی دین تھے۔اس دوران انہوں نے دارالعلوم دیوبند کی لائبریری، مسجد رشید اور دیگر تاریخی مقامات کو دیکھ کر ان کی خوب تعریف کی اور کہاکہ یہاں آنے کی بڑے عرصہ سے تمنا تھی،یہاں کے ذمہ داران سے ملاقات کرکے بہت اچھالگا۔
میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اشفاق سیفی نے کہاکہ دارالعلوم دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دیتا ہے، جو ملک کے وزیر اعظم کا خواب ہے کہ مسلمانوں کے ”ایک ہاتھ میں قرآن اور ایک ہاتھ میں کمپیوٹر ہو“ دارالعلوم اس خواب کو پورا کررہاہے۔انہوں نے دارالعلوم دیوبند پر دہشت گردی کا الزام لگانے والوں کو لاعلم قرار دیا اور کہا کہ ایسے لوگوں کو پہلے دارالعلوم دیوبند میں آنا چاہیے اور یہاں کی تعلیمات اور خدمات کو قریب سے دیکھنا چاہیے۔ اس طرح کے الزامات لگانے والے ناسمجھ لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند اور اس کے علمائے کرام نے ملک کی آزادی میں اہم اور بنیادی رول ادا کیا ہے، ملک اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اشفاق سیفی نے پردے کے سوال کو ٹالتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت سب کی ترقی کے لیے کام کر رہی ہے، ہر طبقہ کو سرکاری اسکیموں کا فائدہ مل رہا ہے۔ یوگی حکومت کی ان فائدہ مند اسکیموں کی وجہ سے تمام طبقات نے ہمیں ووٹ دیا ہے اور ریاست میں ایک بار پھر زبردست اکثریت کے ساتھ یوگی حکومت بنی ہے۔