یوم القدس پر ہندستان سمیت دنیا کے 80 ممالک میں احتجاج، حماس نے کیا طاقت کا مظاہرہ، جمعۃ الوداع پر قبلہ اول میں لاکھوں فلسطینیوں کا اجتماع، اسرائیلی فورس سے شدید جھڑپ، 42؍زخمی، مسئلہ فلسطین کا حل صرف مزاحمت ہے: خامنہ ای 
مقبوضہ بیت المقدس : رمضان المبارک کے جمعۃ الوداع کے موقعے پرآج پوری دنیا میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بیت المقدس پر اسرائیل کے ناجائز تسلط کے خلاف ’یوم القدس‘ مظاہرے منعقد کیے جا رہے ہیں۔گذشتہ دو سال کے دوران کرونا وبا کی وجہ سے یوم القدس کی ریلیاں متاثر رہیں مگردو سال کے بعد دنیا بھر کے ۸۰ممالک اور ایران کے ۹۰۰شہروں میں یوم القدس ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔اس موقع کی یاد میں ایران کے ۹۰۰شہروں میں جلسے جلوس نکالے گئے۔
ایران کے دارالحکومت تہران سمیت کئی دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ تہران میں سب سےبڑا جلوس نکالا گیا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر ’اسرائیل اور امریکا مردہ باد‘ کے نعرے درج تھے۔تہران میں "فلسطینی انفارمیشن سینٹر" کے نامہ نگار نے بتایا کہ مارچ کے شرکاء نے "مرگ بر اسرائیل"، "مرگ بر امریکہ" اور "مرگ بر غدار حکمران " کے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کی کوششوں کی مذمت کی۔ایران  کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کے پرچم بھی نذرآتش کیے۔ جلوسوں سے خطاب میں مقررین نے فلسطین کی آزادی کے لیے عالم اسلام کی فوج تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔تینوں حکام کے سربراہان، جمہوریہ کے صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور عدلیہ کے سربراہ کی قیادت میں ہونے والی ریلیوں میں ایرانی حکام نے شرکت کی۔ 
فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کی فوجی شاخ کے ترجمان نے عالمی یوم القدس کے موقع پر "جنین" نامی ایک نئے ڈرون طیارے کی رونمائی کی ہے۔فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جہاد اسلامی کی فوجی شاخ القدس بریگیڈ کے ترجمان ابو حمزہ نے جمعرات ۲۸‘اپریل کو عالمی یوم القدس کی مناسبت پر کہا کہ ہم عالمی یوم القدس کی تجلیات میں زندگی بسر کر رہے ہیں، جس دن کو امام خمینی نے بیت المقدس کی آزادی کا آغاز قرار دیا تھا۔المیادین ویب سائٹ کے مطابق القدس بریگیڈ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس سال یوم القدس کی سب سے اہم خصوصیت، دشمن اور استکبار کے کیمپ کا واضح ہونا ہے۔ابو حمزہ نے مزید کہا کہ بیت المقدس کا محور دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں کا حامل ہے جو دشمن کو کڑواہٹ چکھائے گا، ہم اپنی طے شدہ توازن پر زور دیتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی کسی بھی طرح کی توہین کا مطلب دشمن کے ساتھ جنگ ​​کا آغاز ہے۔انہوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ بعض عرب ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود طاقت اور توانائی ان لوگوں اور اقوام کے ہاتھ میں ہے جو فلسطین کے راستے سے منحرف نہیں ہوں گے۔القدس بریگیڈ کے ترجمان نے اپنے بیان میں یمنی عوام پر درود و سلام بھیجا جنہوں نے کبھی بھی فلسطینیوں کی حمایت ختم نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ مزاحمتی قوتیں ایک ناقابل تردید پیغام بھیجتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ دشمن کی تباہی کے لیے مزاحمت کے بھڑکتے ہوئے محاذ کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم جنین نامی ڈرون کی نقاب کشائی کر رہے ہیں جو فضائیہ میں کام کرتا ہے اور ہمارے مجاہد اسے محصور غزہ پٹی کے اندر اپ گریڈ کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم پورے فلسطین میں آزادی کے دن تک اپنا وعدہ نبھائیں گے۔القدس بریگیڈ نے صہیونی فوجی گاڑی پر جنین ڈرون کے ذریعے کی گئی کارروائیوں میں سے ایک کی تصویر بھی دکھائی۔ یہ حملہ 7 ستمبر 2019 کو ہوا تھا۔عالمی یوم القدس کی مناسبت سے بڑی تعداد میں مسجدالاقصی میں جمع ہونے والے فلسطینیوں پر صیہونی فوجیوں نے حملہ کردیا تاہم فلسطینیوں کی استقامت نے انھیں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کردیا جبکہ فلسطین، کے ساتھ ہی افغانستان، عراق، بحرین اور یمن اوربہت سے دیگر ملکوں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔صیہونی حکومت کے فوجیوں نے آج عالمی یوم القدس کی مناسبت سے مسجدالاقصی کے مختلف حصوں میں بڑی تعداد میں اکٹھا ہونے والے فلسطینیوں پر یلغار کرتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کرنا شروع کردیا۔فلسطین کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی فوجیوں کے حملوں کے نتیجے میں بیالیس فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں ۔ فلسطنیی عوام عالمی یوم القدس کی مناسبت سے آج صبح سے ہی بڑی تعداد میں مسجدالاقصی میں اکھٹا ہونا شروع ہوگئے تھے۔جمعۃ الوداع پر لاکھوں فلسطینیوں نے قبلہ اول میں نماز ادا کی۔ عالمی یوم القدس کی مناسبت سے گذشتہ روز بھی صیہونی حکومت کی فوج نے اپنی ریزرو فورس کے چھے بریگیڈ غرب اردن سے متصل سرحدی علاقوں میں تعمیردیوار حائل کے طول میں تعینات کردئے تھے۔درایں اثنا عراق ، بحرین ، یمن، پاکستان ، ہندوستان اور افغانستان وغیرہ سے بھی عالمی یوم القدس کے موقع پر احتجاجی جلوسوں اور مختلف پروگراموں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔عراق سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ عالمی یوم القدس کی مناسبت سے نجف ، کربلائے معلی ، بغداد اور بصرہ سمیت اس ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی جلوس نکالے گئے اور غاصب صیہونی حکومت اور اس کے مجرمانہ اقدامات کی مذمت کی گئی ۔العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی فوج مسجد اقصیٰ کے صحنوں سے نکل گئی ہے اور اس نے مسجد کے تمام دروازوں کو کھول دیا ہے۔ 
اس سے قبل آج جمعے کو علی الصباح فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔فلسطینی ہلال احمر کے مطابق جھڑپوں کے نتیجے میں دونوں جانب سے 42 افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق فلسطینیوں نے مسجد کے کمپاؤنڈ کے اندر پولیس پر پتھراؤ کیا تھا جس کے بعد جواب میں ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں۔فلسطینی ہلال احمر کی ہنگامی خدمت نے بتایا کہ تصادم میں 40 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے۔ ان میں 22 کو مقامی ہسپتالوں میں علاج کی ضرورت ہے۔ ہلال احمر کے مطابق جھڑپوں کے دوران میں اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے طبی کارکنان کو کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ اسی اثنا ایک طبی اہل کار کو پولیس کے ہاتھوں زدوکوب کا نشانہ بننا پڑا۔