نمازیوں سے کیا گیا ایک پتركارکا سوال کر سکتا تھا شہر كا ماحول خراب، ڈی ایم-ایس ایس پی کی سمجھ داری سے ضلع میں امن و امان قائم۔
سہارنپور: سہارنپور کی جامع مسجد کے احاطے میں الوداع جمعہ کی نماز پرامن طریقے سے ادا کی گئی اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے تمام مسلمانوں نے بازاروں اور سڑکوں پر نماز ادا کرنے سے گریز کیا، لیکن جیسے ہی جامع مسجد کے اندر سے مسلم نوجوان نماز پڑھ کر باہر آئے تو کچھ صحافیوں کو یہ بات پسند نہیں آئی اور انہوں نے نوجوانوں پر ایسے سوالات کیے جس پر وہ مشتعل ہوگئے۔ ایک بار ماحول خراب ہونے کی افواہ پھیلی لیکن انتظامیہ کی سمجھ بوجھ اور ڈی ایم ایس ایس پی کی سمجھ داری سے حالات قابو میں رہے اور پرامن طریقے سے نماز ادا کرنے کے بعد لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور شہر میں مکمل امن و امان بر قرار رہا۔
کسی مسلمان نمازی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن ایک خاتون صحافی اور اس کے چینل کو شاید اس سب سے مسئلہ ہے اور وہ مسلمانوں سے پوچھتی ہے کہ آپ کو سڑک پر نماز نہ پڑھ کر کیسا لگا، وہ یہ بھی پوچھ رہی ہے کہ آج سڑکوں پر نماز نہیں پڑھی گئی کیا نماز ہوگی یا نہیں؟

جامع مسجد کے امام قاری ارشد گورا نے کہا کہ صحافیوں کے غلط سوالات کی وجہ سے نوجوان مشتعل ھوئے، پولس انتظامیہ کے انتظامات کی تعریف کی اور ڈی ایم ایس ایس پی کی تعریف کی۔ اس دوران جامع مسجد کے باہر ہنگامہ ہوا، ڈی ایم اور ایس ایس پی سمیت کئی تھانوں کی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں کیا۔
درحقیقت، جمعرات کی شام سہارنپور کی جامع مسجد کی انتظامی کمیٹی نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں ضلع کے مسلمانوں سے الوداع جمعہ کی نماز صرف مسجد کے اندر ادا کرنے کی اپیل کی گئی تھی، سڑکوں اور بازاروں نماز ادا کرنے سے منع کیا تھا۔
جمعہ کے روز مسلم معاشرے کے لوگوں کی بڑی تعداد الوداع نماز جمعہ ادا کرنے چوک فوارہ پر واقع مرکزی جامع مسجد پہنچی۔ پولیس انتظامیہ نے سڑک پر نماز نہ پڑھنے پر ایک روز قبل تمام مساجد انتظامیہ کی کمیٹیوں سے بات چیت کی تھی جس پر عمل درآمد بھی ہوا اور لوگوں نے مسجد کے اندر نماز ادا کی۔
پولیس کے مطابق جب کچھ نوجوان نماز کے بعد باہر نکلے تو میڈیا والوں نے سوالات کیے تو انہوں نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ نگر کوتوالی کے علاوہ آر اے ایف اور پی اے سی کے دستے بھی موقع پر تعینات تھے۔ پولیس فورس نوجوانوں کو سمجھایا۔ معاملے کی اطلاع پر ضلع مجسٹریٹ اکھلیش سنگھ اور ایس ایس پی آکاش تومر بھی موقع پر پہنچ گئے۔ پولس انتظامی افسران نے نوجوانوں کو ہنگامہ آرائی سے سمجھایا اور معاملہ پرامن کرایا۔ تھوڑی دیر بعد وہ نوجوان یہاں سے چلے گئے۔ اس کے بعد ایس ایس پی آکاش تومر نے فورس کے ساتھ پیدل بازار میں گشت کیا۔
جیسے ہی جامع مسجد کے باہر نوجوانوں کو ہنگامہ آرائی کا علم ہوا، پورے شہر میں افواہ کا بازار گرم ہوگیا اور آس پاس کے تاجروں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا۔ شہر میں یہ افواہ پھیل گئی کہ جامع مسجد کے باہر ہنگامہ برپا ہو گیا۔ جس کے باعث بازاروں سے لوگ اپنے گھروں کو لوٹنے لگے۔ ساتھ ہی آس پاس کی کچھ دکانیں بھی بند ہو گئیں۔ بعد ازاں پولس انتظامی افسران نے معاملہ رفع دفع کرایا۔
جامع مسجد کے منیجر مولانا مولوی فرید نے بتایا کہ مسجد میں نماز پر امن طریقے سے ادا کی گئی تاہم نماز کے بعد میڈیا کے کچھ افراد نے نماز پڑھنے آئے نوجوانوں سے اشتعال انگیز سوالات کیے جس کے بعد نوجوانوں نے ہنگامہ آرائی کی۔ انہوں نے پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کو اکسانے اور غلط سوالات کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کے بعد کارروائی کی جائے۔
ایس ایس پی آکاش تومر کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوجوانوں کو اکسایا گیا جس کے بعد انہوں نے ہنگامہ کھڑا کیا۔ پولیس ان لوگوں کو نشان زد کر رہی ہے جو ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان صحافیوں کو نوٹس بھیجنے کے ساتھ ساتھ کارروائی کی جائے گی۔ صورتحال مکمل طور پر نارمل ہے۔ پورے ضلع میں الوداع جمعہ کی نماز پر امن طریقے سے ادا کی گئی۔

سمیر چودھری۔