راہ دعوت وعزیمت (قسط اول)حضرت مولانا کلیم صدیقی و حافظ ادریس قریشی کی چھ مہینوں کے بعد عدالت میں پیشی۔
ایڈوکیٹ اسامہ ندوی
31 مارچ ۲۰۲۲ کے دن کو شاید ہی میں زندگی میں بھول پاؤں،کیونکہ بہت سے حادثات زندگی بھر کے لئے روح پر اثر چھوڑ جاتے ہیں،۲۱ستمبر ۲۰۲۱ کو حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب کو اور ۲۲ستمبر ۲۰۲۱ کو میرے ابو جان حافظ ادریس قریشی صاحب کو اے ٹی ایس یوپی نے گرفتار کیا تھا-شروع کے تین مہینے ہم چارج شیٹ کا انتظار کیا پھر بیل اپلیکیشن کورٹ میں لگائی تو تاریخ در تاریخ کے بعد ناکامی ہاتھ آئی،اسی دوران ایک جنوری ۲۰۲۲سے جیل میں ہونے والی ملاقات بند ہوگئی تو اب صورت دیکھنے کو ترس گئے بلکہ تڑپ گئے،میرے قیام لکھنؤ کو اب آدھے سے زیادہ سال گزر گیا ہے،جیل میں ملاقات بند ہوگئی تو میں روزانہ جیل کے باہر کسی نہ کسی بہانے سے جاتا تھا کبھی دوپہر میں کبھی صبح تو کبھی شام کے وقت،وہاں پر موجود پولس اہلکار تعجب کرتے تھے کہ وکیل صاحب آپ کیوں آتے ہیں جب کوئی کام نہیں ہےمیں کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر کچھ وقت گزارکرچلا آتا تھا،میری قیام گاہ سے جیل کی مسافت ۲۵ کلو میٹر تھی کبھی کبھی تو دوبار بھی طواف محبت کیا ہے،آخر کار۲۳ مارچ کی دوپہر میں حکومت کی طرف سے دوبارہ ملاقات کا اعلان جاری ہوا تو ہم شوق کے پروں پر پرواز کرتے ہوئے جیل خانے کی جالیوں پر ملاقات کے لئے پہنچ گئے یہ ملاقات ہماری ۸۸ دنوں کے بعد ہورہی تھی پر نم آنکھوں سے ایک دوسرے کا استقبال کر رہے تھے میں حسب سابق اپنی طرف سے چیخ کر (کیونکہ ملاقات تین فٹ کی دوری سے ہوتی ہے اور بیچ میں جالی اور ریلنگ رہتی ہے نیز درجنوں اور ملاقاتی بھی رہتے ہیں ) سلام کیا اور حال چال جانا ادھر سے حضرت مولانا نے حال چال جانا گھر اور سب متعلقین کی خیریت پوچھی ابو نے گھر اور سب لوگوں کے بارے میں پوچھا نیز مقدمہ کے سلسلہ میں بات چیت ہوئی ،حضرت مولانا نے حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا بیٹا تم ہمت مت ہارنا انشاء اللہ اللہ تمہیں کامیاب کرے گا،اسی دوران ملاقات چل رہی تھی اچانک کچھ اے ٹی ایس کے اہلکار آئے اور حضرت مولانا و رفقاء کے دستخط کرانے کی بات کرنے لگے میں نے اشارہ سے منع کردیا اور ان سے مسکراتے ہوئے مخاطب ہوا کہ کس بات کے دستخط کرا رہے ہو ہمیں بھی بتا دو انہوں نے جواب دیا تو میں دستخط کرنے کا اشارہ کیا تو سلیم بھائی کے دستخط کرائے ،اسی بیچ ہم نے عدالت میں طلبی کے لئے لگائی گئی اپلیکیشن پر ساتھی وکیل سے خبر ملی کہ طلبی منظور ہوگئی ہے میں نے یہ خبر حضرت مولانا کو اور ابو جان کوبتائی کہ ہم آپ کو ۳۱ مارچ کو عدالت میں بلا رہے ہیں تاکہ آپ باہر کی تھوڑی بہت آب و ہوا لے لیں اور گھر کا کھانا کھلائیں گے،جس پر تمام حضرات نے خوشی کا اظہار کیا اور دعائیں دی۔

31مارچ کی صبح صبح میں عدالت پہنچ گیا حوالات انچارج سے مل کر ساری معلومات کری بتایا گیا کہ دونوں حضرات کو اسپیشل گاڑی سے لایا جارہا ہے اور ان کو حوالات نہیں لائیں گے بلکہ پرانے ہائی کورٹ میں لائیں گے اور وہیں گاڑی رکے گی،آج دھوپ کچھ زیادہ تیز تھی کیونکہ اس کو بھی ہمارا امتحان لینا تھا دس بجے سے ہم الگ الگ جگہ بدل کر گاڑی کا انتظار کرنے لگے بارہ بجے کے قریب اچانک ایک گاڑی گیٹ میں داخل ہوتے ہوئے دکھائی دی جس میں دو نورانی چہرے مجھے نظر آئے جو مارے خوشی کے جالیوں میں ہاتھ ہلاکر خوشی کا اظہار فرمارہے تھے اور مجھے آواز لگا رہے تھے،گاڑی رکی دروازہ کھلا میں سامنے کھڑا تھا پولس اہلکار نکلے اور ہاتھ پکڑ کر دونوں حضرات کو باہر لے آئے اور عدالت کی طرف چل دئے،حضرت مولانا کے ساتھ میں اور پولس اہلکار نیز ابو جان کے ساتھ ہمارے دوسرے رفقاء جو دور کھڑے تھے وہ چلنے لگے،تھوڑے سے ہی فاصلہ پر کورٹ روم میں دونوں حضرات کو پیش کیا گیا، جج صاحب نے حکم دیا کہ ان لوگوں کی گھر والوں سے ملاقات کرادی جائے ہم ۱۹۱ دنوں (۶ مہینے ۱۰ دن ) کے بعد بغیر کسی فاصلہ کے ملاقات کر رہے تھے کھڑے ہوئے بات کر رہے تھے ،حضرت مولانا کے چہیتے ڈاکٹر نور صاحب کی آنکھیں بار بار نم ہورہی تھی لیکن ہمت جٹا کر بات کررہے تھے،مظہر بھائی اور مسعود الظفر ہمت جٹا کر گھر کے حالات بتا رہے تھے،ابو جان نے میرے سے کہا سعد (میرے چھوٹے بھائی )کے بیٹے کا فوٹو ہے کیا ؟ (جس کی ولادت گرفتاری کے بعد ہوئی ہے) میں نے ان کو اپنے موبائل سے فوٹو دکھایا تو ان کی آنکھیں نم ہوگئی میں نے بات کو دوسرا رخ دیتے ہوئے انہیں محمد اور ماہرہ کے فوٹو دکھا دئے جس سے ان کے چہرے پر مسکان آئی اسی دوران عدالت کے پیشکار نے دونوں حضرات سے دستخط کرائے (میں نے روکنے کی بہت کوشش کری) جبکہ عام طور تمام آنے والے ملزمان کو موقع دیا جاتا ہے