’مندر توڑکر بناگئی مسجد‘ گیان واپی مسجد تنازع میں ہندو فریق کا دعویٰ
الہ آباد :(ایجنسی) الہ آباد ہائی کورٹ نے کاشی وشویشور ناتھ مندر اور گیانواپی مسجد تنازع کیس میں جمعرات کو ہوئی سماعت میں مسجد کے وجود پر سوال کھڑے کئے گئے۔ کہا گیا کہ وشویشور ناتھ مندر کو توڑ کر مسجد بنائی گئی ہے ۔جسٹس پرکاش پاڑیاکی عدالت میں اس معاملے کی اب اگلی سماعت 10kمئی کو ہوگئی ۔
امراجالا کی خبر کے مطابق ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران، مندر کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل وجے شنکر رستوگی نے مسجد کے وجود پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہاں پر مسجد کاشی وشویشور ناتھ مندر کو توڑ کر بنائی گئی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں عدالت کی طرف سے 1936 میں دیے گئے حکم کا بھی خاکہ پیش کیا ہے۔ یہ دلیل دی گئی تھی کہ اس سے قبل دائر مقدمہ صرف تین مسلمانوں سے متعلق تھا۔ یہ کوئی عام حکم نہیں تھا۔ اس حکم کی بنیاد پر کوئی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران تمام فریقین موجود تھے اور مندر فریق کے وکیل کی جانب سے احاطے کی حالت کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں جبکہ دوسری جانب جسٹس کی جانب سے شواہد کے حوالے سے بھی معلومات لی گئیں۔ اس کے علاوہ جسٹس پاڑیا نے کمشنر کے ذریعہ جگہ کے معائنہ کے بارے میں بھی دریافت کیا۔

10 مئی سے پہلے معائنہ کیا جائے گا
بتایا گیا کہ اس معاملے میں وارانسی کی ضلع عدالت نے حال ہی میں ایک ایڈووکیٹ کمشنر کا تقرر کیا تھا، جہاں پر متنازع جگہ کے معائنہ اور ویڈیو گرافی کے لیے کمشنر کے ذریعہ شرنگر گوری اور دیگر دیوی دیوتاؤں کی موجودگی سے متعلق شواہد کو مرتب کرنا ہے۔ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر، پہلے سے طے شدہ معائنہ کو روک دیا گیا ہے۔ اب 10 مئی سے پہلے یہ معائنہ کرنے کے بعد مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔
اس واقعہ کے بارے میں، مندر فریق کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اگر آپ تمام ثبوت اور حقائق پر نظر ڈالیں تو، گیانواپی مسجد ایک چار دیواری سے گھری ہوئی ہے، جو مسجد سے بہت پرانی ہے، یہ چاردیواری مندر کا حصہ ہے۔ دوپہر کے بعد ہونے والی سماعت وقت کی کمی کے باعث مکمل نہ ہو سکی۔ اب اس کیس کی سماعت اسی عدالت میں جاری رہے گی۔