بزدلی کا راستہ چھوڑ کر حکمت و دانائی سے حالات کا مقابلہ کریں، ملک کے موجودہ تشویشناک حالات پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی کانہایت اہم پیغام۔
دیوبند: (سمیر چودھری)
ملک کے موجود انتہائی تشویشناک حالات پر عالم اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاس نعمانی نے کہاکہ مسلمانوں کو بزدلی کا راستہ چھوڑکر حکمت و دانائی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے،اپنے اخلاق و معاملات کو درست کریں اور مذہب اسلام کے امن و سلامتی کے پیغام کا عملی نمونہ بن کر دکھائیں۔ واضح رہے کہ اس وقت دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی اپنے وطن بنارس میں ہیں، جہاں اعتکاف وغیرہ کے ساتھ وہ رمضان کی عبادتوں میں مشغول ہیں اور مسلسل اپنی خانقاہ میں اصلاحی بیانات اور حالات حاضرہ سے مجلس کو آگاہ کررہے ہیں،اسی سلسلہ کے تحت گزشتہ روز مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اپنی مجلس میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے موجودہ حالات بالخصوص ملک میں جگہ جگہ رونما ہورہے فسادات کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مسلمان اپنے اخلاق و معاملات کو درست کریں، گناہوں سے توبہ، نئے سرے زندگی کا آغاز کریں، برادران وطن اور پڑوسیوں کے ساتھ اپنی اسلامی اخلاق و کردار کی وہ تصویر پیش کریں جو مسلمانوں کی حقیقی تصویر اور اسلامی کی حقیقی تعلیمات ہیں تاکہ ان کے ذہنو ں میں جو گندگی بھری جارہی ہے اس کا عملی توڑ پیدا ہوسکے۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ دل کو مضبوط رکھیں، خوف ودہشت کو دل سے نکالیں، موت کے خوف کو دل سے نکالیں، کیونکہ موت ایک مرتبہ ضرور آئیگی، مرنا برحق، موت کے ڈر سے ہم گھر کے اندر بیٹھ کر دیکھتے رہیں تو یہ بھی طریقہ درست نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ خدانخواستہ خدانخواستہ حالات ایسے آ جائیں کہ ہمار ی جان و مال پر حملہ ہوجائے، تو ہم بزدل بن کر گھر میں نہ بیٹھے رہے ہیں،ہم امن وامان کے محافظ ہیں،اپنی طرف سے کوئی امن کے خلاف اقدامات نہیں کرینگے، لیکن اگر ہماری جان و مال عزت و آبرو کے اوپر کوئی حملہ آور ہوتاہے تو چھت پر چڑھ کر نعرہ تکبیر نہ لگائیں بلکہ اللہ نے جتنی طاقت و ہمت اور استطاعت اور جو اسباب فراہم ہوں ان کے ذریعہ اپنادفاع کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، انہوں نے کہاکہ موت آئے تو عزت کے ساتھ آئے اور موت ضرور آئیگی لیکن دلوں میں بزدلی اور کمزوری بٹھاکر اپنے کو دوسروں کے سپرد کردینا یہ ایمان والوں کی شان نہیں ہے۔اس کے علاوہ مولانامفتی ابوالقاسم نعمانی نے ملک کے موجودہ حالات پر روشنی ڈالی اور اہل سیاست کی خاموشی کا بطور خاص تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت پورے ملک میں نفرت کا ایجنڈہ پھیلایا جارہاہے، کشمیری پنڈتوں کے حوالہ سے فلم بناکر اسے ٹیکس فری کرکے دکھاکر لوگوں کے ذہنوں میں نفرت بھری جارہی ہے، انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو اپنے اخلاق اور معاملات درست کرکے اسلامی کی تصحیح تصویر بن کر پیش ہونا چاہئے تاکہ برادران وطن کے ذہنوں میں جو نفرتی زہر بھرا جارہاہے اس کا توڑ پید ا کیا جاسکے۔ انہوں نے ہمارا کام محبت کے پیغام کو عام کرناہے۔