دھرم سنسد: سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ حکومت سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کی۔
نئی دہلی :(ایجنسی) سپریم کورٹ نے بدھ کو اتراکھنڈ حکومت کو حکم دیا کہ وہ دھرم سنسد معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں عدالت میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کرے۔ گزشتہ سال ہری دوار میں منعقدہ دھرم سنسدمیں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیئے گئے اور اس کی بازگشت ہندوستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے کئی ممالک میں بھی سنائی دی تھی۔
اس معاملے میں پولیس نے مقدمہ درج کرکے ڈاسنا مندر کے مہنت یتی نرسنگھانند کو بھی گرفتار کیا تھا، لیکن بعد میں انہیں ضمانت مل گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں درخواست گزاروں کواجازت دی کہ وہ شملہ میں مجوزہ ایسی ہی دھرم سنسد کے خلاف ضلع افسر کے سامنے شکایت درج کرا سکتے ہیں ۔
آن لائن پورٹل ’ستیہ ہند ‘ کی خبر کے مطابق جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ابھے ایس اوکا نے یہ حکم جاری کیا۔ صحافی قربان علی، پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج انجنا پرکاش نے اس معاملے میں ایک عرضی دائر کی تھی اور دھرم سنسد کے منتظمین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اتراکھنڈ حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے اس معاملے میں اپنا جواب داخل کرنے کے لیے عدالت سے کچھ وقت مانگا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی پولیس کی طرف سے دھرم سنسد کے حوالے سے چار ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور ان تین ایف آئی آر میں سے چارج شیٹ بھی پیش کی گئی ہیں۔
سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت سے کہا، ’اسی طرح کی دھرم سنسد اتوار کو شملہ میں تجویز کی گئی ہے اور آپ دیکھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ میں ایسی باتیں بھی نہیں پڑھنا چاہتا جو لوگوں کے درمیان کہی گئی ہیں۔‘

عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی اگلی سماعت 22 اپریل کو ہوگی۔ اس سے پہلے اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں اپنا جواب عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
درخواست گزاروں نے اس معاملے میں گزشتہ سال سپریم کورٹ کا رخ بھی کیا تھا۔ دھرم سنسد کیس میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد بھی یتی نرسنگھانند سرسوتی نے دہلی میں ایک حالیہ پروگرام میں ایک بار پھر اشتعال انگیز بیان دیا۔ اس بیان بازی پر دہلی پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا ہے۔