مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی جمعیۃ علماء وسطی اترپردیش کے عبوری صدر منتخب، مجلس عاملہ کے آن لائن اجلاس میں اتفاق رائے سے فیصلہ۔
کانپور: جمعیۃ علماء وسطی اترپردیش کی صدارت کیلئے ضلع لکھیم پور کے معروف عالم دین مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی کو عبوری طور پر منتخب کرلیا گیا۔ مجلس عاملہ کے آن لائن اجلاس میں تمام اراکین نے اتفاق رائے سے اس فیصلہ پر مہر لگادی۔
زون کے جنرل سکریٹری مفتی ظفر احمد قاسمی نے میٹنگ میں شریک اراکین عاملہ کو بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند کے آئین میں ”کوئی بھی عہدیدار ایک جیسے دومساوی عہدوں پرنہیں رہ سکتا“ کے تحت سید محمدوزین ہاشمی صدر جمعیۃ علماء لکھنؤنے جمعیۃ علماء وسطی اترپردیش کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جس کے بعد اراکین عاملہ نے اجلاس کی صدارت فرما رہے لکھیم پور معروف عالم دین مولانا اسلام الحق اسجد میاں کا انتخاب جمعیۃ علماء وسط یوپی کے عبوری صدرکے طور پر کیا۔ عبوری صدر منتخب ہوئے مولانا اسلام الحق اسجد میاں نے اپنے بیان میں ملک کے موجودہ حالات سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حالات وقتی ہوتے ہیں ان مسائل میں جذباتیت اور اشتعال انگیزی کے بجائے حکمت و بصیرت کے ساتھ ہمیں عز م و حوصلے کاسبق دینا ہے۔ مولانا نے کہا کہ موجودہ تناظر میں ہماری ذمہ داری ہے کہ اضطراب و بے یقینی کی اس فضا میں جمعیۃ علماء کے ذمہ داران رہنما خطوط پیش کریں تاکہ معاشرہ سے بے یقینی کی صورتحال کو ختم کیا جاسکے اور ملت میں عز م و حوصلہ کے عناصر پروان چڑھتے رہیں۔
جلسہ میں بطور مہمان خصوصی شریک رہے جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے ملک کے بدلتے ہوئے حالات اور سیرت نبویؐ کے حوالے سے گفتگو کی۔ مولانا نے ملک کے بدلتے منظرنامے اور بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داریوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مولانا نے اکابرین جمعیۃ کی ایمان افروز اور جان فروش کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں مشتعل اور مایوس ہو نے کے بجائے ہم اپنے اکابر کی قربانیوں سے روشنی لے کر صحیح موقف اور مستقبل کا لائحہ عمل امت کے سامنے پیش کریں۔ ایک خاص سازش کے تحت ہمارے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمارا دشمن ہماری تاریخ سے واقف ہے اسے معلوم ہے کہ ہم نے سخت سے سخت حالات میں بھی ہمت و حوصلے کے ساتھ ملک و ملت کے حق میں بڑی جدوجہد کے ساتھ لڑائی لڑی ہے۔ یہ آئے روز ہو رہے حادثات و واقعات ذہنی طور پر ہمیں پست کرنے اور ہمارا حوصلہ توڑنے کیلئے کرائے جا رہے ہیں، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خود بھی اس منصوبے کو سمجھیں اور قوم کی صحیح رہنمائی کریں۔ اب ہم نے محض مرثیہ پڑھنا شروع کر دیا ہے، جو کرنا چاہئے تھا وہ نہیں کر رہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ پروپگنڈے کی دنیا میں آپ کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، معاملہ مسلمانوں کا نہیں بلکہ اسلام کا ہے۔ ایسے میں ہمیں سازشوں کو سمجھ کر کام کرنا ہے۔ مدارس،مساجد اور مکاتب کے خلاف منصوبہ بندی کے ساتھ سازشیں کی جا رہی ہیں۔ آج کے وقت میں جب تمام نظریاتی اختلافات کے باوجود پوری قوم کی نگاہیں آپ کی طرف ہیں تو ایسے میں آپ کی ذمہ داری بھی ہے آپ پر سے لوگوں کا اعتماد نہیں ٹوٹنا چاہئے۔
ناظم اجلاس مفتی ظفر احمد قاسمی نے بتایا کہ ماہ شوال کے اخیر میں جمعیۃ علماء ہند کی مرکزی منتظمہ کا اجلاس دیوبند میں منعقد ہورہا ہے جس کے خرچ کی کچھ ذمہ داری وسطی زون پر بھی ڈالی گئی ہے۔اس پر اتفاق رائے سے انتظامات کی ذمہ داریاں زون کے اضلاع کے درمیان تقسیم کی گئیں۔
میٹنگ میں اصلاح معاشرہ کمیٹی اور تحفظ اوقاف کمیٹی کی کارکردگی پر غور کیا گیا، دونوں کمیٹیوں کے ذمہ داران سے 2ہفتے کے اندر کمیٹی کے ذریعہ کئے جانے والے کاموں کی تحریری رپورٹ مانگی گئی۔
اس کے علاوہ جن اضلاع میں دینی تعلیمی بورڈ کی تشکیل ابھی تک نہیں ہوسکی ہے، ریاستی نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی نگرانی میں ماہ شوال کی ابتداء میں ان اضلاع میں دینی تعلیمی بورڈ کی ضلع سطحی یونٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
اجلاس میں مولانا اسلام الحق اسجد میاں قاسمی، مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی اور مفتی ظفر احمد قاسمی کے علاوہ مولانا عبدالرب قاسمی فرخ آباد، مولانا عبد الجبار قاسمی ہردوئی،مفتی عبد الرحمان مظاہری لہر پور، مولانا مختار عالم مظاہری اناؤ،ڈاکٹر حلیم اللہ خاں کانپور، مولانا نور الدین احمد قاسمی کانپور، مولانا محمد اظہار قاسمی کانپور دیہات،مولانا محمد کلیم جامعی قنوج،مفتی محمد سلمان قاسمی باندہ،مولانا محمد مرشد قاسمی کوشامبی، مولانا مطیع الحق انظر لکھنؤ،حافظ محمد شہباز محمودی فتح پور، مولانا احمد عبد اللہ رسولپوری،مولانا محمد جمال قاسمی بارہ بنکی، مفتی صہیب احمد قاسمی بہرائچ، مولانا سلطان احمد جامعی جالون، مولانایاسرعبدالقیوم قاسمی ہردوئی، قاری عبد المعید چودھری کانپور، مفتی اظہار مکرم قاسمی کانپور، مولانا محمد اسماعیل قاسمی کانپور دیہات، مولانا محمد عابد قاسمی اوریا، مولانا اعجاز احمد ندوی سیتاپور، ڈاکٹر سلمان خالد لکھنؤ، مولانا ذوالفقار نقشبندی فرخ آباد، مولانا شکیل الدین ندوی ہمیرپور، مولانا ہلال احمد قاسمی سیتا پور،مولانا محمد شعیب مبین مظاہری باندہ، حافظ مصباح الدین باندہ، مولانا محمد عمران قاسمی شاہجہا نپورکے علاوہ دیگر لوگ موجود رہے۔

سمیر چودھری۔