گیان واپی مسجداحاطہ میں اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے، عدالتی حکم پرسروے شروع ہوتے ہی ہنگامہ، پورا علاقہ پولس چھاؤنی میں تبدیل، 10 مئی کو عدالت میں پیش ہوگی رپورٹ۔
وارانسی: وارانسی میں گیان واپی مسجد اور شری کاشی وشواناتھ دھام مندر میں ویڈیو گرافی اور سروے جمعہ کی شام چار بجے سے شروع ہوگیا ہے جو اتوار تک جاری رہے گا۔ ایڈوکیٹ کمشنر اجے کمار مشر کے ساتھ فریق اول کے ۱۸ لوگ اور فریق ثانی گیان واپی پہنچے تھے۔ اس سے قبل ٹیم جب احاطے میں پہنچی تو کچھ نوجوانوں نے ہر ہر مہادیو کا نعرہ لگایا جس کے جواب میں مسلم نوجوانوں نے بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں بلند کیں۔ کچھ دیر کےلیے ماحول کشیدہ ہوگیا ، دکانیں بند ہوگئیں، لیکن پولس نے مستعدی سے حالات پر قابو پایا اور سخت سیکوریٹی کے حصار میں سروے کا کام شروع کیاگیا۔ 
عرضی دائر کرنے والی پانچوں خواتین کے وکیل شیوم گوڑ نے بتایاکہ سروے پورا ہونے میں تین دن لگ سکتا ہے۔ ایسے میں اتنے بڑے علاقے کا سروے اتوار تک مکمل ہونے کی امید ہے۔پہلے دن کا سروے جمعہ کو دیر شام ختم ہوگیا ہے۔ سروے کے بعد باہر آئے انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی کے وکیل ابھے ناتھ یادو نے ایڈوکیٹ کمشنر پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گیان واپی احاطے میں پچھم کی طرف واقع چبوترے کی ویڈیو گرافی کرائی گئی ہے اس کے بعد ۵ بج کر ۴۵ منٹ پر ایڈوکیٹ کمشنر نے گیان واپی مسجد کے داخلی دروازے کو کھلوا کر اندر جانے کی کوشش کی تو ہم نے مخالفت کی، انہوں نے بتایاکہ عدالت کا ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ آپ بریکیڈنگ کے اندر جاکر ویڈیو گرافی کرائیں لیکن ایڈوکیٹ کمشنر نے کہاکہ انہیں ایسا حکم ہے۔ مسجد کی دیوار کو انگلی سے کریدا جارہا تھا ، جبکہ ایسا کوئی حکم عدالت نے نہیں دیا تھا اس لیے ہم ایڈوکیٹ کمشنر پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ کل عدالت سے دوسرا ایڈوکیٹ کمشنر متعین کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ ادھر ہندو فریق کے وکیلوں نے کہاکہ آج گیان واپی احاطے کے کچھ حصے کی ویڈیو گرافی ہوئی ہے، احاطے کے اندر جانے کی کوشش کی گئی تو مسلم فریق نے مخالفت کی او رکہاکہ آپ نہیں جاسکتے۔ 
سنیچر کو تین بجے پھر ایڈوکیٹ کمشنر سروے کی کارروائی شروع کریں گے، ایڈوکیٹ کمشنر نے ضلع مجسٹریٹ سے کہا ہے کہ ہم کل بریکیڈنگ کے اندر جائیں گے اور سروے کا کام ہوگا۔ بتادیں کہ سروے کے دوران مسجد کے دونوں تہہ خانوں کا بھی سروے کیا جائے گا جن میں سے ایک تہہ خانے کی کنجی انتظامیہ کے پاس اور دوسرے کی کنجی مسجد کے فریق کے پاس ہے۔ ساتھ ہی اس دوران ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی بھی ہوگی۔ دراصل ۱۹۹۲میں ایودھیا تنازعہ کے بعد بنارس میں گیانواپی شریکاشی وشواناتھ کمپلیکس کے تنازع نے ۲۰۲۰سے نیا موڑ لیا ۔اگست ۲۰۲۰میں شرینگر گوری میں واقع گیانواپی کمپلیکس کے مغربی سرے پر مندر جانے کے لیے پانچ خواتین کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت کے حکم کے بعد آج یہاں سروے کا کام شروع ہوگیا ہے۔کمیشن کی کارروائی کے دوران نگرانی کےلیے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کی ٹیم بھی پہنچی ہوئی ہے، مدعی کی طرف سے ایڈوکیٹ ہری شنکر جین، پنکج گپتا اور شوم شکلا بھی موجود تھے، ہری شنکر جین نے بابری مسجد معاملے میں بھی ہندو مہاسبھا کی جانب سے سپریم کورٹ میں بحث کی تھی۔ قبل ازیں انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کے وکیل ابھے این یادو نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن کا عدالت نےحکم نہیں دیا ہے، عدالت نے وہی حکم دیا ہے جس کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔اب یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ عدالت کے ذریعہ تشکیل شدہ کمیٹی کس طرح کی رپورٹ عدالت میں پیش کرتی ہے۔ ادھر کاشی وشواناتھ مندر نیاس پریشد کے ٹرسٹی ڈاکٹر برج بھوشن اوجھا نے کہا کہ جب کوئی جھانکی نکلتی ہے تو لوگ اس میں شامل ہونے کےلیے بے تاب ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں آج اتنی بھیڑ ہے، اس کا کوئی مطلب نہیں ہے ، جنہو ںنے عدالت کے حکم کی توہین کی ہے ان کی شہریت ثابت ہونی چاہئے کہ وہ ہندوستانی ہیں یا کسی دوسرے ملک کے شہری۔ واضح رہے کہ گیان و اپی مسجد میں عام طور پر جمعہ کی نماز کےلیے تین سے چار سو کے قریب نمازی پہنچے تھے ، سروے کو لے کر آج جمعہ کی نماز میں ڈھائی ہزار کے قریب نمازی موجود تھے، سبھی کو چیکنگ کے بعد اندر جانے دیاگیا ۔ نماز جمعہ کے بعد کچھ افراد نے مذہبی نعرہ لگا کر ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی لیکن پولس اور مسلم کمیونٹی کے سرکردہ افراد نے انہیں دور بھگادیا۔ گیان واپی کے آس پاس گہما گہمی کا ماحول ہے، کچھ دکانیں لوگوں نے احتیاطاً بند کردی ہیں۔سروے مکمل ہونے کے بعد اس کی رپورٹ ۱۰ مئی تک عدالت میں پیش کی جائے گی، وہیں اس سروے کو لے کر وارانسی کمشنریٹ اور وارانسی گرامین کے سبھی تھانوں کی فورس کے ساتھ مقامی انٹلی جنس یونٹ کو اضافی احتیاط برتنے کو کہاگیا ہے۔ مسلم علاقوں میں گشت بڑھا دی گئی ہے، سوشل میڈیا پر سخت نگرانی برتی جارہی ہے۔ ادھر نماز جمعہ کے وقت مسجد میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے نمازی جہاں ایک طرف واپس ہوگئے۔
وہیں دوسری طرف ایک خاتون کاشی وشواناتھ مندر کے گیٹ نمبر چار پر نماز پڑھنے لگی، یہ دیکھ کر پولس حرکت میں آئی اور اسے حراست میں لے لیا۔ خاتون کے جھولے کی تلاشی لے گئی تو اس میں دیوی دیوتائوں کی تصویروں کے ساتھ دماغی امراض کے اسپتال کی رپورٹ ملی ہے، وٹرآئی ڈی کارڈ اور شناختی کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ خاتون ذہنی مریضہ ہے ۔ خاتون کا نام عائشہ اور اس کے شوہر کا نام حنیف ہے ۔ ان کا علاج ڈاکٹر اجے کمار سنگھ کی نگرانی میں کیاجارہا ہے۔