حاجی اقبال اور بھائی محمود علی کی 107کروڑ کی جائیدادیں ضبط، سہارنپور انتظامیہ کے ذریعہ مسلسل کی جارہی حاجی اقبال کے خلاف سخت کارروائی۔
سہارنپور:(سمیر چودھری)
بی ایس پی کے سابق ایم ایل سی حاجی محمد اقبال اور ان کے بھائی سابق ایم ایل سی محمود علی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس نے دونوں بھائیوں کی 125 بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے۔ جس کی قیمت 107کروڑ بتائی جارہی ہے۔ یہ جائیدادیں آج 14 مئی کو ضبط کرلی گئی ہیں۔ حاجی کے بیٹے سمیت کئی لوگ پہلے ہی جیل بھیجے جا چکے ہیں۔ ایسا بتایا جا رہا ہے کہ حاجی اقبال اور محمود علی اور ان کے اہل خانہ بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس ان کی گرفتاری کی کوشش کر رہی ہے۔
ایس ایس پی آکاش تومر کی سختی کے بعد حاجی اقبال، محمود علی اور خاندان کے دیگر افراد بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حاجی اقبال کے اثاثے بھارت سے زیادہ بیرون ملک ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک بھی اپنا کاروبار قائم کر رکھا ہے۔ بھارت میں جیسے ہی سختی بڑھی، وہ بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم حاجی اقبال کے بیٹے عالیشان کو سہارنپور پولیس نے 13 مئی کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا۔ حاجی اقبال کے قریبی راو لئیق اور منشی نسیم احمد کو پولیس پہلے ہی جیل بھیج چکی ہے، حالانکہ راو لئیق کو عدالت سے ضمانت مل گئی ہے۔جبکہ حاجی اقبال کے خاص جنیشور پرساد، بیربل سنگھ، سنجے اور سریندر ابھی تک جیل میں ہی ہیں۔ اس کیس میں نامزد محمد شعیب اور پون سنگھ کی پہلے ہی موت ہوچکی ہے۔ ان معاملات پر ایس آئی ٹی ٹیم کی جانچ ابھی بھی جاری ہے۔

یہ ہیں حاجی اقبال اور خاندان کے خلاف بڑے مقدمے۔
14 مارچ 2018 کو حاجی اقبال اور ان کے بیٹوں عالیشان، واجد، افضال، بھائی ایم ایل سی محمود علی کے خلاف فتح پور ٹانڈہ کے پالّہ کی جانب سے ان کی 7.5 بیگھہ اراضی پر قبضہ کرنے کی رپورٹ درج کرائی گئی۔5 اپریل 2018 کو حاجی اقبال،ان کے بھائی اور بیٹے جاوید علی کے خلاف ہریدوار، اتراکھنڈ (یونیورسٹی سے ملحقہ زمین) میں رانی پور کے راکیش اروڑہ کی 44 بیگھہ زمین زبردستی ہتھیانے کا مقدمہ درج کیا گیاتھا۔5 اپریل 2017 کو سہس پور، اتراکھنڈ کے محمد رشید کے49 لاکھ 88 ہزار روپے کے مطالبہ پر جان سے مارنے کی دھمکی دینے اور دھوکہ دینے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جس میں حاجی اقبال، بھائی محمود علی اور ان کے بیٹوں کے خلاف مقدمہ درج ہے۔2 نومبر 2017 کو تحصیل بہٹ کے حلقہ لکھ پال پنکج نے حاجی اقبال کے بھائی محمود علی کے خلاف سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا مقدمہ درج کرایا۔23 جولائی 2018 کو سابق ایم ایل سی حاجی اقبال اور ان کے دو بیٹوں جاوید اور عالیشان کے علاوہ بھائی محمود علی کے خلاف زمینوں پر قبضے کے الزامات کی بنیاد پر گینگسٹر ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی۔ جس کی وجہ سے جاوید کو جیل بھیج دیا گیا۔6 جولائی 2019 کو گروگرام، ہریانہ کے سنیل من چندا کی بیوی کرن من چندا نے عبدالواحد، رویندا، حاجی محمد اقبال اور چار نامعلوم افراد کے خلاف یرغمال بنانے، ڈکیتی، بدسلوکی کے الزام میں مقدمہ درج کرایا تھا۔7 جولائی 2019 کو ہی تحصیل بہٹ کے گاو ¿ں شفیع پور کی سویتا زوجہ میگھراج کی جانب سے زمین ہتھیانے کے جرم میں حاجی اقبال، بیٹوں واجد، جاوید، عالیشان کے خلاف دھوکہ دہی سے زمین کابیعنامہ کرانے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔20 ستمبر 2019 کو گلوکل کالج کے منیجر اور حاجی اقبال کے بیٹے محمد واجد کے خلاف ایم آئی سی کے معیار پر پورا نہ اترنے، مقررہ فیس سے زائد فیس وصول کرنے اور ایم بی بی ایس کے طلباءکو سال دوم کے امتحان سے محروم رکھنے پر رپورٹ درج کرائی گئی۔