علیحدگی پسند لیڈر یاسین ملک کو دو الگ الگ کیسز میں عمر قید کے ساتھ 10 لاکھ روپے کے جرمانہ سزا، پانچ معاملوں میں سزا کا فیصلہ۔
نئی دہلی: جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسند لیڈر یاسین ملک کو دہلی کی خصوصی عدالت نے دو الگ الگ کیسز میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ساتھ ہی یاسین ملک پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ این آئی اے کورٹ نے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان سنایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 5 معاملوں میں یاسین ملک کو 10-10 سال کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ یہ سبھی سزائیں ایک ساتھ چلیں گی۔

اس سے قبل معاملے کی جانچ کر رہی این آئی اے (قومی تحقیقاتی ایجنسی) نے یاسین ملک کو سزائے موت دیے جانے کی گزارش کی تھی۔ چونکہ یاسین نے غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت لگائے گئے سبھی الزامات کو قبول کر لیا تھا، اس لیے آج دہلی کی خصوصی عدالت میں ان کے لیے سزا کا اعلان کیا گیا۔ این آئی اے کے ذریعہ سزائے موت دیے جانے کی گزارش کو عدالت نے مسترد کر دیا اور عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز یاسین ملک نے عدالت میں کہا تھا کہ وہ خود کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مخالفت نہیں کرتا۔ ان الزامات میں یو اے پی اے کی دفعہ 16 (دہشت گردانہ عمل)، 17 (دہشت گردانہ عمل کے لیے فنڈنگ)، 18 (دہشت گردانہ عمل کی سازش)، دفعہ 20 (دہشت گرد گروپ یا تنظیم کا رکن ہونا)، اور تعزیرات ہند کی دفعہ 120-بی (مجرمانہ سازش) اور 124-اے (ملک سے غداری) شامل ہیں۔
اس سے قبل یٰسین ملک کو دہلی کی پٹیالہ کورٹ میں لایا گیا تھا۔ عدالت میں سزا پر بحث ہوئی۔ جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ سزا سنانے سے قبل پٹیالہ کورٹ کمپلیکس کی سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ کمرہ عدالت کے باہر سی اے پی ایف، اسپیشل سیل کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔
اس دوران کئی لوگ ترنگا لے کر عدالت کے باہر پہنچ گئے۔ اس کے ساتھ ہی سری نگر کے قریب مائسمہ میں یٰسین ملک کے گھر کے قریب ملک کے حامیوں اور پولیس کے درمیان تصادم کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ یہاں پتھراؤ کے بعد سیکورٹی اہلکاروں کو آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے۔ یٰسین ملک کا گھر سری نگر کے قریب مائسمہ میں ہے۔ ملک کے گھر کے ارد گرد سیکورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ ڈرونز کے ذریعے علاقے کی نگرانی کی جا رہی ہے۔