گیان واپی مسجد کے سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا سخت رد عمل، سروے اور وضو خانہ کو بند کرنا سراسر نا انصافی، اسے مسلمان ہرگز برداشت نہیں کرسکتے۔
نئی دہلی:  آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اپنے پریس نوٹ میں کہاہے کہ گیان واپی مسجد بنارس،مسجد ہے اور مسجد رہے گی،اس کو مندر قرار دینے کی کوشش ،فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرنے کی ایک سازش سے زیادہ کچھ نہیں،یہ تاریخی حقائق کے خلاف اور قانون کے مغائر ہے،1937میں دین محمد بنام اسٹیٹ سکریٹری میں عدالت نے زبانی شہادت اور دستاویزات کی روشنی میں یہ بات طئے کردی تھی کہ یہ پورا احاطہ مسلم وقف کی ملکیت ہے۔اور مسلمانوں کو اس میں نماز پڑھنے کا حق ہے،عدالت نے یہ بھی طئے کردیاتھاکہ متنازعہ اراضی کا کتنا حصہ مسجد ہے اور کتنا حصہ مندر ہے،اسی وقت وضوءخانہ کو مسجد کی ملکیت تسلیم کیا گیا،پھر ۱۹۹۱ءمیں(Places of Worship Act 1991) پارلیمینٹ سے منظور ہوا،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ۷۴۹۱ءمیں جو عبادت گاہیں جس طرح تھیںان کو اسی حالت پر قائم رکھا جائےگا۔۹۱۰۲ءمیں بابری مسجد مقدمہ کے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے بہت صراحت سے کہا کہ اب تمام عبادت گاہیں اس قانون کے ما تحت ہوں گیں اور یہ قانون دستور ہند کی بنیادی اسپرٹ کے مطابق ہے۔اس فیصلہ اور قانون کا تقاضہ یہ تھا کہ مسجد کے شبہ میں مندر ہونے کے دعوی کو عدالت فورا (خارج) رد کردیتی،لیکن افسوس کہ بنارس کے سول کورٹ نے اس مقام کے سروے اور ویڈیو گرافی کا حکم جاری کردیا،تاکہ حقائق کا پتہ چلایا جا سکے،وقف بورڈ اس سلسلہ میں ہائی کورٹ سے رجوع کرچکا ہے اورہائی کورٹ میں یہ مقدمہ زیر کارروائی ہے،اسی طرح گیان واپی مسجد کی انتظامیہ بھی سول کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرچکی ہے۔سپریم کورٹ میں بھی یہ مسئلہ زیر سماعت ہے،لیکن ان تمام نکات کو نظر انداز کرتے ہوئے سول عدالت نے پہلے تو سروے کا حکم جاری کردیا اور پھر اس کی رپورٹ قبول کرتے ہوئے وضوءخانہ کے حصہ کو بند کرنے کا حکم جاری کردیا،یہ کھلی ہوئی زیادتی ہے اور قانون کی خلاف ورزی ہے جس کی ایک عدالت سے ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی،عدالت کے اس عمل نے انصاف کے تقاضوں کو مجروح کیا ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر اس فیصلہ پر عمل آوری کو روکے،الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کرے اور ۱۹۹۱ءکے قانون کے مطابق تمام مذہبی مقامات کا تحفظ کرے،اگر ایسی خیالی دلیلوں کی بناءپر عبادت گاہوں کی حیثیت بدلی جائے گی تو پورا ملک افرا تفری کا شکار ہوجائیگا،کیونکہ کتنے ہی بڑے بڑے مندر بودھ اور جینی عبادت گاہوں کو تبدیل کرکے بنائے گئے ہیں اور ان کی واضح علامتیں موجود ہیں،مسلمان اس ظلم کو ہر گز برداشت نہیں کرسکتے،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہر سطح پر اس نا انصافی کا مقابلہ کرے گا۔