قطب مینار احاطے میں ہندو تنظیموں کی شرانگیزی، ہنومان چالیسا کے پاٹھ ساتھ لگائے جے شری رام کے نعرے، قطب مینار کا نام "وشنو استبھ" کرنے کامطالبہ۔
نئی دہلی: راجدھانی دہلی میں منگل کو کچھ ہندو تنظیموں کے اراکین نے تاریخی عمارت قطب مینار کے پاس ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا اس کے ساتھ ہی ہندو تنظیموں کے ذریعہ قطب مینار کا نام بدل کر وشنو استنبھ کرنے کا مطالبہ کیاگیااس درمیان جے شری رام کے نعرے بھی لگائے گئے۔ 

اطلاعات کے مطابق منگل کو صبح سے ہی قطب مینار کے پاس ہندو تنظیموں کا احتجاج جاری ہے۔ ہندو تنظیم مہاکال مانو سیوا کے اراکین نے قطب مینار کے پاس ہنومان چالیسا کا پاٹھ کرکے مخالفت درج کرائی حالانکہ اس کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پولس پہنچ گئی اور کچھ لوگوں کو حراست میں لے لیا ہے۔یونائیٹیڈ ہندو فرنٹ کا کہنا ہے کہ قطب مینار درحقیقت وشنو ستنبھ ہی ہے اتنا ہی نہیں اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اس مینار کو جین اور ہندو مندروں کو توڑ کر بنایاگیا تھا ان کا کہنا ہے کہ ایک خاص سوچ وفکر کے حامل لوگوں نے تاریخ کو غلط لکھا ہے۔ اس موقع پر موجود فرنٹ کے کارگزار صدر جے بھگوان گوئل نے کہاکہ قطب مینار احاطے میں موجود مسجد میں نصب مورتیوں کی پوجا کےلیے اجازت ملنی چاہئے اور وہاں سے ان مورتیوں کو کسی ایسی جگہ رکھا جائے جہاں پوجا کی جاسکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہندو اور جین دھرم کے ۲۷ مندر کو توڑ کر مینار تعمیر کی گئی ہے اس کے علاوہ مسجد میں مورتیاں ہیں تو پھر یہ مندر ہی ہوا۔ 

قطب مینار احاطہ میں ہنومان چالیسا پڑھنے والے مظاہرین کامطالبہ ہے کہ ہندوستان ایک سناتن بھومی ہے اسلیے قطب مینار کے ساتھ ہی تمام مغلیہ دور کی عمارتوں اور سڑکوں کا نام بھی بدل دیاجاناچاہئے۔ کانگریس لیڈر نے ہندو تو وادی تنظیموں کے اس مظاہرے کی مذمت کی ہے کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی مکیش شرما نے ٹوئٹ کرکے کہاکہ گیان واپی مسجد کے بعد اب تاج محل، قطب مینار پر تنازعہ پیدا کررہے ہیں بھگوا دھاری مہنگائی کیسے بھلائیں، اس لیے یہ کرتب کررہے ہیں۔

سمیر چودھری۔