تمام تر اختلافات کے باوجود ہندوستانیت کو بچانا اور کثرت میں وحدت کو باقی رکھنا جمعیۃ کا مشن،جمعیۃ علماء کانپور کی جانب سے عید ملن تقریب میں مختلف طبقات کے نمائندگان کی شرکت۔
کانپور:۔ رمضان المبارک جیسے عظیم و مقدس مہینے کے بعد انعام کے طور پر ملنے والی عید کی خوشی میں تمام طبقات کو شریک کرنے اور بھائی چارے، باہمی اتحاد کی فضاقائم کرنے کے مقصد اور میل محبت کی راہ ہموار کرنے کیلئے جمعیۃعلماء شہر کانپور کے زیر اہتمام کانپور کے ہوٹل کے ڈی پیلس میں ایک پر وقار عید ملن تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں نائب صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی دعوت پر مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بالخصوص ستیہ دیو پچوری ممبر پارلیمنٹ کانپور، ایم ایل اے امیتابھ باجپئی، ایم ایل اے حاجی عرفان سولنکی،ایم ایل اے حسن رومی، نمامی گنگے پروجیکٹ کے ریاستی آرگنائزر شری کرشن دیکشت بڑے جی،کانپور بار ایسوسی ایشن کے صدر نریش چندر ترپاٹھی،چندر شیکھر آزاد زری یونیورسٹی کے سائنسداں و ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر کرم حسین، سینئر کانگریسی لیڈر آلوک مشرا، آنندیشور کے مہنت شری پنچ دشنام جونا اکھاڑا، یونائٹڈ کرشچین چرچس کے صدر ڈائمنڈ یوسف،سکھ سماج کے مدن سنگھ لاکڑا،سندھی سماج کے مہیش میگھانی، جماعت اسلامی کانپور کے ذمہ دار مولانا محمد نعیم، جمعیۃ اہل حدیث کے ذمہ دار محمد اقبال محمدی، جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ناظم تنظیم مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی،جمعیۃ علماء وسطی اتر پردیش کے صدر مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی،جنرل سکریٹری مفتی ظفر احمد قاسمی سمیت مختلف ملی تنظیموں کے ذمہ داران،صوبہ اور شہر کی مقتدر سیاسی، سیاسی، ملی و مذہبی شخصیات شامل ہوئیں۔
اس موقع پر ممبر پارلیمنٹ ستیہ دیو پچوری نے کہا کہ جب تمام طبقہ کے لوگ اپنی صلاحیتوں کا استعمال ملک کی ترقی کیلئے کریں گے تبھی ہما را ملک آگے بڑھے گا، کسی طبقہ خاص کو نظر انداز کرکے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہمیں متحدہوکر آپس میں مل جل کر رہنا ہے، یہی ہماری تہذیب ہے۔ ہماری تہذیب کی بنیاد ہی بھائی چارے کی ہے، پوری دنیا ہمارا’پریوارا‘ ہے۔ ہم سب کی خوشی اور سب کے بہبود کی بات کرتے ہیں، یہی ہماری طاقت ہے۔ جب ہم اسی جذبہ کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت اس ملک کے مسلمانوں کو برادران وطن سے الگ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے تقسیم ہند کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت آپ میں سے بہت سے لوگ ہیں جو چاہتے تو پاکستان چلے جاتے لیکن آپ اور آپ کے آباء و اجداد نے اس ملک کو مادر وطن مانا ہے اور یہیں رہے۔ جس طرح جنگ آزادی میں ہم سب نے مل کر قربانیاں دی تھیں، اسی طرح آگے بھی ملک کیلئے اپنی خدمات دیتے رہیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے ملک کے موجودہ حالات پر کہا کہ چھوٹی موٹی چیزوں سے کسی کو بھی گھبرانے یا خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، عدلیہ اپنا کام کرے گی، اللہ آپ کے ساتھ ہے اور فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔
اپنے صدارتی خطا ب میں جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے آئے ہوئے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سماج کی ضروریات دو طرح کی ہوتی ہیں، پہلی اخلاقی، روحانی، غیر مادی،دوسری  معاشی، سیاسی، مادی۔مذہب،سماج کی روحانی اور اخلاقی ضروریات پر بھی تفصیلی اور متعین راستے کی رہنمائی کرتا ہے اور معاشی و مادی ضروریات کو پورا کرنے کے بھی بنیادی اصول و ضوابط متعین کرتا ہے۔ آج کی نئی دنیا میں مذہبی سوچ اور ترقی پسند سوچ کے بیچ ایک کشمکش پائی جاتی ہے۔ پچھلی چند صدیوں کے ترقی پسند افکار نے انسانی زندگی کی روحانیت اور اخلاقی اقدار کو سماجی ترقی میں رکاوٹ قرار دے دیا، نتیجے میں مذہبی سوچ نے اس ترقی پسندی کو بجا طور پر سماج کیلئے نقصاندہ سمجھا۔
جمعیۃ علمائے ہند جس نظریاتی نظام کی جماعت ہے، اس میں اِس کشمکش کا بہترین توازن موجود ہے۔ اس نظریے میں مذہب سماج کی روحانی ترقی کا ضامن تو ہے ہی، سماج کی مادی ترقی میں بھی رکاوٹ نہیں بلکہ اس کا رہنما ہے۔ اس موقع پر مولانا عبد اللہ قاسمی نے جمعیۃ علماء ہند کے ذریعہ کئے جانے والے خدمت خلق کے کاموں کے بارے میں بتا یا۔ انہوں نے تعلیم پر بات کرتی ہوئے کہا کہ۔ دارالعلوم دیوبند جمعیۃ علماء کی فکری ماں ہے، اور دارالعلوم دیوبند کا وجود خود اس بات کی گواہی ہے کہ جس فکری نظام کی جمعیۃ علماء ترجمان ہے اس فکری نظام میں بنیادی حیثیت تعلیم کی ہے، نیز دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین اور جمعیۃعلمائے ہند کے صدر نیز جمعیۃ علماء ہند کے فکری رہنما اور عظیم مجاہد آزادی شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی رحمہ اللہ کا نام جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اہم ترین بانیین میں شامل ہونا بھی اس بات کی واضح دلیل ہے۔مولانا نے بقائے باہم کے تعلق سے کہا کہ سماج میں رہنے والے انسانوں اور الگ الگ گروہوں کے بیچ واضح اختلافات اور فرق کے باوجود یہ ممکن ہے اور سماج کے حق میں یہ مناسب اور ضروری بھی ہے کہ وہ سب آپس میں مل جل کر امن کے ساتھ مشترک مقاصدکے لئے سرگرم عمل ہوں۔اس موقع پر مولانا نے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے ذریعہ چلائی جانے والی تحریک ریشمی رومال کے سلسلے میں افغانستان میں قائم آزاد ہند فوج کا سربراہ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کو بنوانے اور مہاتما گاندھی کی قیادت میں ازادی کی تحریک چلانے جیسی مثالیں بھی پیش کیں۔ مولانا نے بتایا کہ جمعیۃعلماء آئین و قانون کے دائرے میں جمہوری پرامن راستوں سے ہر مظلوم کی بھرپور حمایت اور ہر ظالم کی بھرپور مخالفت کا نظریہ رکھتی ہے اور اس پر عمل کرتی ہے۔س طرح اپنے گھر والوں سے محبت کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دوسرے گھر والوں سے انسان نفرت کرے، اسی طرح اپنے وطن اور وطن والوں سے محبت کرنے کا بھی یہ مطلب نہیں ہوتا کہ دوسرے وطن اور وطن والوں سے انسان نفرت کرے۔ وطن پروری کا یہی تعمیری اور مثبت نظریہ جمعیۃ علمائے ہند کی تاریخ کا حصہ اور اس کے حال کا رہنما ہے۔ملک کے اندر دستور کی حفاظت کے لیے بھرپور کوششوں کے ساتھ، ملک کے باہر سے ہونے والی ایسی کوششیں جو ہندوستان کی دستوری خودمختاری کو چیلنج کرتی ہیں، جمعیۃ علماء نے ان کا بھرپور جواب دیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے موجودہ صدر مولانا محمود مدنی کے ذریعہ الگ الگ موقعوں پر فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف اور اور برطرف حکمراں عمران خان کی ان کوششوں کا منہ توڑ جواب دینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بڑوں کے اسی راستے پر جمعیۃ علماء آج بھی خدمت خلق، تعلیم، بقائے باہم، ظلم کے خلاف پر امن جدوجہد اور دستوری عملداری کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ایک ترقی پسند مذہبی جماعت کے طور پر سماج، ملک اور پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے سرگرم ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔
اس موقع پر مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور کے مہتمم و متولی الحاج محی الدین خسرو تاج، نادرن ٹینری کے ذمہ دار معین لاری، معروف صنعت کار نجم ہمراز،محمدی یوتھ گروپ کے صدر اخلاق احمد ڈیوڈ، سابق ایم ایل اے حاجی سہیل انصاری، سابق ایم ایل اے رگھونندن بھدوریا، سابق ایم پی شری پرکاش جیسوال کے پسر گورو جیسوال، محکمہ شرعیہ و دار القضاء کانپور کے صدر مفتی عبد الرشید قاسمی،بھاجپا اقلیتی مورچہ کے ریاستی سکریٹری انس ساجد عثمانی، کانگریس پارٹی کے ضلع صدر نوشاد عالم منصوری، کارپوریٹر مرسلین خاں بھولو، شاعر ندیم نیر کانپوری، کانگریس لیڈر عبد المنان، روزنامہ راشٹریہ سہارا کے ایڈیٹر حبیب الرحمن قاسمی، قاضی شہر کانپور قاری معمور احمد جامعی، روزنامہ انقلاب سے رفیع اللہ بقائی،ڈاکٹر غیاث الدین محمد، ڈاکٹر محمد مبارک، نوشاد احمد ببلو، مانیش دیکشت، حافظ محمد افتخار، شفیق الرحمن،جمعیۃ علماء شہر کانپور کے صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں کے ساتھ تمام اراکین منتظمہ و کارکنان موجود رہے۔