شانِ رسالت ‌میں گستاخی سے ملت اسلامیہ میں شدید غم وغصہ، جمعیة علماءہند کی تھانہ انچارج کو شکایتی مکتوب سونپ کر ملزم نوجوان کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ۔
دیوبند: (سمیر چودھری)
اکثریتی فرقہ کے نوجوان کے ذریعہ سوشل میڈیا پر شان رسالت میں گستاخی اور مذہب اسلام کے خلاف انتہائی مذموم اور بیہودہ تبصرے کئے جانے پر ملت اسلامیہ میں شدید غم وغصہ پایا جارہاہے، اس معاملہ کو لیکر جمعیة علماءہند کے عہدیدان و کارکنان نے تھانہ انچارج کو تحریر دے کر ملزم نوجوان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔
ہفتہ کے روز جمعیة علماءتحصیل رامپور منیہاران کے صدر مولانا مفتی محمد عارف قاسمی اورمجلس منتظمہ کو رکن و جامعہ دعوة الحق معینہ چررہو کے ناظم اعلیٰ مولانا شمشیر قاسمی کی قیادت میں عہدیداروں و کارکنان نے رامپور منیہاران کے تھانہ انچارج کو ایک شکایتی مکتوب سونپا۔مکتوب میں بتایاگیاہے کہ قصبہ رامپور منیہاران کے محلہ گنگارام کے باشندہ ناتھی رام سینی کا بیٹا پنکج سینی سوشل میڈیا پر مسلسل مذہب اسلام اور پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں گستاخی جیسا عظیم جرم کررہا ہے اور انتہائی قابل اعتراض، غیر انسانی اور ناشائستہ تبصرے کرکے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کررہاہے۔بتایاگیاہے کہ مذکورہ نوجوان کے ذریعہ پیغمبر اسلام حضرت محمد اور مذہب کے اسلام کے متعلق جھوٹے اور انتہائی بیہودہ تبصرہ کرکے ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و شانتی کو خراب کرنے اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کرنے والے مذکورہ نوجوان کو فوری طور پر گرفتار کرکے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کارروائی کی جائے۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ جمعیة علماءہند نے ہمیشہ ملک میں امن اور بھائی چارہ برقرار رکھنے کی آئینی ذمہ داری کو پورا کیا ہے، اس لیے ہم آئینی طور پر مطالبہ کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ایسے تبصرے کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ ملک کا اتحاد اور امن وشانتی و گنگا جمنی تہذیب کو برقراررکھا جاسکے۔
تھانہ انچارج نے وفد کو ملزم نوجوان کے خلاف قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ میمورنڈم دینے والوں میں مفتی عارف قاسمی، مولانا شمشیر قاسمی، مولانا عبدالرحمن، مولانا ثوبان قاسمی، مولانا افتخار، حاجی اعظم، راشد، سرور، صنور، عمار، مطلوب انتظار وغیرہ کے نام شامل ہیں۔