اب کرناٹک کی مسجد میں پوجا کرنے پہنچے وی ایچ پی کے لوگ، حالات کشیدہ۔
بنگلورو :(ایجنسی)
گیان واپی مسجد تنازع ابھی جاری ہے کہ منگلورو میں ایک مسجد کو لے کر تنازع شروع ہو گیا ہے اور مسجد کے قریب پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ہندوشدت پسند تنظیم کے کارکنوں کے ذریعہ مسجد کے پاس مذہبی سرگرمی کرنے کا منصوبہ بنانے کے بعد منگلورو پولیس کو منگل کو ملالی میں سید عبداللہ مدنی مسجد کے آس پاس دفعہ 144 لگانی پڑی تھی۔

حال ہی میں ملالی مسجد کی بحالی کا کام چل رہا تھا، اس دوران مندر کا ڈھانچہ ملا جس نے تنازع کھڑا کر دیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ معاملہ طے پا گیا کیونکہ عدالت کی جانب سے کام روکنے کے حکم کے بعد ہندو کارکنوں نے مسئلہ نہیں اٹھایا۔ دریں اثنا، وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے پجاریوں کے سامنے ’تمبولا پرشن‘ اٹھا کر روایتی انداز میں سچائی جاننے کا فیصلہ کیا ہے۔
بدھ کی صبح وی ایچ پی کے کارکن مسجدمیں پوجا کرنے پہنچے تھے اور اس کے بعد کافی ہنگامہ ہوا۔ پولیس نے وی ایچ پی کے کارکنوں کو حراست میں لے لیا کیونکہ علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔ وی ایچ پی کے کارکن بڑی تعداد میں پہنچ گئے تھے اور کارکنان پوجا کرنے کے لیے ہنگامہ کررہے تھے۔ علاقے میں پولیس فورس پہلے سے ہی تعینات تھی۔
ملالی منگلورو کے قریب واقع ہے، جسے فرقہ وارانہ طور پر حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی گڑبڑ تین ملحقہ ساحلی اضلاع کو متاثر کرے گی۔ یہ علاقہ بی جے پی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ منگلورو شہر کے پولیس کمشنر این ششی کمار نے منگل کو ہی مسجد کے اندر اور اطراف میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔
کرناٹک میں یہ دوسری مسجد ہے جو دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کے حملے کی زد میں آئی ہے۔ ہندو دائیں بازو کی تنظیم نریندر مودی وچار منچ نے حال ہی میں ضلع انتظامیہ سے رابطہ کیا اور دعویٰ کیا کہ بنگلورو سے 120 کلومیٹر دور سری رنگا پٹنہ میں واقع جامع مسجد ہنومان کے مندر پر بنائی گئی ہے۔ اسے ٹیپو سلطان نے 1700 میں بنایا تھا۔ گیان واپی تنازعہ بڑھنے کے بعد اب قطب مینار اور تاج محل کو لے کر بھی تنازع شروع ہو گیا ہے۔