گیان واپی اورعید گاہ مسجد کے خاتمہ کا راستہ صاف: حسام صدیقی۔
لکھنؤ: اجودھیا کی بابری مسجد کی طرح ہی بنارس کی گیان واپی مسجد کے بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے جانے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ عدلیہ کاتاریخ میں اس سےبڑا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے کہ وارانسی کے سول جج سینئر ڈویزن روی کمار دیواکر کے ذریعہ شرنگار گوری اور مسجد کا سروے کرنے کیلئے مقرر کی گئی ٹیم کا سروے مکمل ہونے اور عدالت میں سروے رپورٹ داخل ہونے سے قبل ہی ہندو فریق کے وکیل ہری شنکر جین کے کہنے سے ہی سے عدالت نےتسلیم کرلیاکہ مسجد کے وضو خانہ میں ایک بڑا شیو لنگ موجود ہے صرف سول جج نے ہی نہیں سپریم کورٹ تک نے آرڈر کر دیا کہ شیو لنگ کی جگہ کیلئے سخت سکیورٹی بندو بست کیا جائے اور نمازیوں کیلئے بھی کوئی دقت نہ آئے اس کا بھی خیال رکھا جائے۔ اگر وشو ہندو پریشد کے وکیل کی ہی بات سچ مان کر گیان واپی مسجد میں شیو لنگ کی موجودگی تسلیم کرنی تھی تو پھر سروے کمیشن کی کیا ضرورت تھی۔ ہری شنکر جین تو مسجد کو پہلےہی مندر بتا رہے تھے ان کی بات سن کر ہی عدالت کو آرڈر کر دینا چاہئے تھا کہ گیان واپی اب مسجد نہیں رہے گی مندر ہو جائے گی۔ وضو خانہ کے اندر ملے جس پتھر کو شیو لنگ بتایاگیا اس میں اوپر سے نیچے تک سوراخ ہیں اور اوپری حصہ چار پانچ حصوں میں کٹا ہوا ہے۔ ایسا سوراخ والا شیو لنگ اس سے پہلے تو کبھی اور کہیں بھی نہیں دیکھا گیا۔ مسجد کمیٹی کادعویٰ ہے کہ وہاں فوارہ لگا تھا اسی فورے کی بنیاد کر شیو لنگ بتایاجارہا ہے۔ ادھر متھرا کی شاہی عید گاہ مسجد کے خلاف بھی دائر پٹیشن بھی ضلع عدالت نے منظور کر لی ہے۔
متھرا کی شاہی عید گاہ کی مسجد کے لئے بھی دعویٰ کیاگیا ہےکہ جس تقریباً ساڑھے تیرہ ایکڑ زمین پر یہ عید گاہ مسجد بنی ہوئی ہے وہ زمین مسلمانوں کی نہیں ہے وہ زمین بھگوان شری کرشن کی جائیداد ہے اس لئے یہ زمین خالی کرا کر برابر بنے کرشن جنم بھومی مندر کو سونپی جائے۔ چھ پٹیشنروں کی جانب سے پہلے یہ پٹیشن متھرا سول کورٹ میں داخل کی گئی تھی لیکن جج نےپٹیشن کو ڈسمس کر دیا تھا۔ لکھنؤ کی رنجنا اگنی ہوتری سمیت سبھی پیٹشنروں نے ضلع عدالت میں دستک دی، ڈسٹرکٹ کورٹ نے معاملے کی سنوائی کرکے چھ مئی کو اپنا فیصلہ ریزرو کر لیا تھا۔ انیس مئی کو ڈسٹرکٹ کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اس پٹیشن کو سماعت کیلئے منظور کیاجاتا ہے۔ اس معاملے میں ہندو فریق کی جانب سے یہ دعویٰ نہیںکیا گیا ہےکہ مندر توڑ کریہ عید گاہ مسجد بنائی گئی تھی۔ مسجد کی زمین کو ٹھاکر جو (بھگوان کرشن) کی ملکیت ہے اسےخالی کرایا جائے۔ خالی کرائے جانے کا مطلب صاف ہے کہ مسجد توڑکر ہٹائی جائے اور خالی زمین کوکرشن جنم بھومی مندر کے حوالے کیا جائے۔یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ متھر کی عید گاہ مسجد کے سلسلہ میں کئی سال قبل فریقین کے درمیان ایک سمجھوتہ بھی ہوا تھا جس کے مطابق دونوں عباد ت گاہیں قائم رہیں گی۔ اس سلسلہ میں کوئی تنازعہ کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ اب کہاجارہا ہے کہ وہ سمجھوتہ غلط تھاا س لئے ہندو فریق اب اسے نہیں مانتے۔ لکھنؤ کی رنجنا گنی ہوتری کے مطابق کرشن بھکت ہونے کے ناطے انہوں نےیہ پٹیشن دائر کی تھی۔
 اس معاملے میںایک بڑی سازش یہ کی گئی کہ باضابطہ رپورٹ آنے سے قبل ہی بڑے پیمانے پر میڈیا کے ذریعہ شیو لنگ ملنے کی خبریں ملک اوردنیا کے سامنے پیش کرکے ملک کی اکثریتی طبقے کے ذہن میں یہ نقش کر دیاگیاکہ مسجد کے وضو خانہ میں شیو لنگ نکلا ہے۔ لوگوں نےاس بات پر اس حد تک یقین کرلیا ہے کہ اب اگریہ ثابت ہو بھی گیاکہ وہاں شیو لنگ نہیں بلکہ فوارا تھا تو بھی عام لوگ اسے تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔ یہ بہت خطرناک صورتحال ہے۔شاید ہری شنکر جین نےاسی خیال سے فوارے کو شیو لنگ بتا دیا اور عدالت نے ان کی بات پر یقین کرکے اسکی سکیورٹی کا آرڈر کر دیا کہ اگرایک بار مسجد کے خلاف رائے عامہ قائم ہو گئی تو اسے تبدیل نہیں کیا جاسکے گا۔
عدالتی فیصلے کااحترام سبھی کو کرنا چاہئے اگر کوئی فریق فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو وہ اوپری عدالت میں جا سکتاہے۔ اسی خیال سے گیان واپی معاملے کا یکطرفہ فیصلہ آنے کے باوجود مسلم فریق اور مسجد انتظامیہ کمیٹی خاموش رہا حالانکہ انہیں اب عدالت کے فیصلے سے کوئی امید باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہےکسی ایکسپرٹ کمیٹی اور سروے کمیشن کی رپورٹ آئے بغیر بنارس کے سول جج سینئر ڈویزن نے فوارے کی بنیاد کو ہندو فریق کے وکیل کے کہنے پر ہی شیو لنگ تسلیم کر لیا۔اتنا ہی نہیں سپریم کورٹ نے بھی اسے شیو لنگ ہی کہہ دیا۔ اب سوال یہ ہےکہ مسلم فریق بھلے ہی سپریم کورٹ تک پہنچ چکے ہیں لیکن انصاف کی امید بہت کم ہے۔ اب وارانسی اور متھرا کا معاملہ بھی اجودھیا کی طرح قانون کا نہ رہ کر آستھا کا ہو گیا ہے اور بھارت میں آستھا کے سامنے قانون یا عدلیہ کا کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔
گیان واپی میں شیو لنگ ملا اس کا شور مچا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش پوری طرح کامیاب ہوئی نظر آرہی ہےکہ عام لوگوں نےبھی تسلیم کرلیااور اپنے ذہنوں میں بٹھا لیاکہ گیان واپی مسجد پرانے مندر توڑ کر ہی اورنگزیب اور دیگر مسلم حکمرانوں کے ذریعہ بنوائی گئی تھی اسی لئے اس مسجد کو اب اس جگہ قائم نہیں رہنا چاہئےہٹا دیا جانا چاہئے ۔ یہی ذہنی کیفیت آستھا میں تبدیل ہوتی ہے جن چار خواتین منجو ویاس، ریکھاپاٹھک، سیتا ساہو او ر لکشمی دیوی نے وارانسی کے سول جج کی عدالت میں اس معاملے میں پٹیشن دائر کی تھی ان لوگوں نےعدالت میں نئی پٹیشن دائر کرکے اپیل کی کہ مسجد کے وضو خانہ میں ملے شیو لنگ کے چاروں طرف بنی گول دیوار توڑی جائے تاکہ وہاں ہم پوجا کر سکیں۔ خبر لکھے جانے تک اس پٹیشن پر کوئی فیصلہ عدالت نے نہیںکیا تھا۔ سپریم کورٹ میں بھی اس کی سماعت شروع نہیں ہوئی تھی لیکن موقع پر وضوخانہ اور ٹوائلٹ ضرور بند کردیاگیاتھا۔

لیڈ اسٹوری
جدید مرکز، لکھنؤ
مؤرخہ 22 تا 28 مئی، ۲۰۲۲