تاج محل کے ۲۰کمروں میں ’شیو ‘کی مورتیاں بند ہونے کا دعویٰ، الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے کمرے کھولنے کی درخواست۔
آگرہ: اتر پردیش میں گیان واپی مسجد کے بعد اب تاج محل سے جڑا ایک نیا تنازعہ سامنے آ گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آگرہ کے تاج محل میں بھگوان شیو کا مندر ہے۔ تاج محل کے بالائی اور زیریں حصے میں ۲۲کمرے ہیں جنہیں عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے۲۰کمروں کو کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جہاں مورتیاں اور شواہد موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔مغلیہ دور کی مشہور اور محبت کی لازوال اور یادگار نشانی تاج محل کے۲۰کمروں کی حقیقت جاننے کے لیے ایک عدالت میں پٹیشن دائر کی گئی ہے کہ ان کو کھولا جائیں۔ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنو بینچ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایودھیا ضلع کے میڈیا انچارج ڈاکٹر راجنیش سنگھ نے یہ پٹیشن دائر کی ہے جو یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان ۲۰کمروں میں ہندو مورتیوں اور تاریخی عبارات کو چھپایا گیا ہے؟درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ رودرا وکرم ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔ڈاکٹر راجنیش سنگھ کا کہنا ہے کہ ’تاج محل سے متعلق ایک پرانا تنازع ہے۔ قریباً ۲۰کمروں کو تالے لگے ہوئے ہیں اور اس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کمروں میں ہندو دیوتاؤں کی مورتیاں اور مقدس عبارات موجود ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’آرکیالوجیکل سروے کو ہدایت دی جائے کہ ان کمروں کو کھول کر حقیقت معلوم کی جائے۔ ان کمروں کو کھولنے میں کوئی نقصان نہیں۔‘درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کمروں کی حقیقت جاننے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔۲۰۲۰سے ڈاکٹر راجنیش سنگھ ان کمروں کی حقیقت کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معلومات حاصل کرنے کے حق (آر ٹی آئی) کے قانون کی بنیاد پر ایک درخواست دائر کی تھی جس کے جواب میں کہا گیا کہ ان کمروں کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تالے لگائے گئے ہیں۔’اس وقت ان کمروں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ جب ان کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں تو میں نے لکھنو کے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔سخت گیر ہندو تنطیمیں تاج محل کو ’تیجو مہلایا کا مندر‘ قرار دیتے ہیں۔