گیان واپی مسجد معاملہ میں نیا موڑ، وشوویدک سناتن سنگھ نے اپنا دعویٰ واپس لینے کا اعلان کیا۔
وارانسی: گیان واپی مسجد اور کاشی وشوا ناتھ شرنگار گوری معاملے میں نیا موڑ آگیا ہے، یہاں باقاعدہ درشن اور پوجا کو لے کر دو دنوں سے سروے پر ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ سروے کا حکم پانچ خواتین کی عرضی پر دیاگیا تھا۔ اب اسی عرضی کو واپس لینے کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔ اگست ۲۰۲۱ میں داخل کرنے والی ان پانچ خواتین کے پیچھے وشو ویدک سناتن سنگھ نام کی ایک تنظیم تھی۔ آج تنظیم کے صدر جتیندر سنگھ بیسن نے اعلان کیا ہے کہ وہ مندر فریق کی جانب سے معاملے پر دی گئی عرضی واپس لے لیں گے۔ سنیچر کو جب سروے کا کام ہورہا تھا تبھی ویدک سناتن سنگھ نے اپنی لیگل ٹیم کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس لڑائی کی ابتدا کرنے والے سنگھ کو کریڈٹ نہ ملنے کی وجہ سے عرضی واپس لینے کا فیصلہ لیاگیا ہے۔ وشو ویدک سناتن سنگھ کے صدر جتیندر سنگھ بیسن کے اس فیصلے کے ساتھ ہی عرضی گزار خواتین کے درمیان سراسیمگی پھیل گئی ہے۔ راکھی سنگھ سمیت پانچ خواتین نے سرنگار گوری کے درشن اور پوجا کو لے کر اگست ۲۰۲۱ میں وارانسی سول کورٹ میں عرضی دی تھی پر سماعت کرتے ہوئے سول جج روی کمار دیواکر نے سرنگار گوری اور دیگر مقامات کے حالات کو جاننے کےلیے کورٹ کمشنر کی تقرری کی تھی۔ دو دنوں سے سروے کا کام چل رہا تھا۔ اچانک ہوئے اس فیصلے کے بعد جب اخبار کے نمائندوں نے ان پانچ خواتین میں سے ایک سیتا ساہو سے بات کی تو انہو ںنے بتایاکہ انہیں اس فیصلے کی کوئی جانکاری نہیں ہے، لیکن اگر اس طرح کا کوئی فیصلہ لیاگیا ہے تو وہ اس فیصلے کے خلاف ہیں۔ وہ اس مقدمے کو لڑیں گی، فی الحال دیگر خواتین کے ساتھ میٹنگ جاری ہے، میٹنگ کے بعد ہی اس پر کوئی بیان جاری کیاجاسکتا ہے۔ وشو ویدک سناتن سنگھ کے صدر جتیندر سنگھ بیسن نے کل دوپہر کو اچانک ایک خط جاری کرکے اپنی لیگل ٹیم کو تحلیل کردی تھی۔ نوبھارت آن لائن نے جب اس کی وجہ جاننا چ اہتی تو جتیندر سنگھ بیسن نے بتایاکہ توسیع اور تشکیل نو کےلیے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ لیکن آج صبح اچانک سے انہوں نے کیس واپس لینے کا فیصلہ کیا، کیس واپسی کو لے کر جب ان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہو ںنے بیان کی تصدیق کی او رکہاکہ کچھ باتیں سمجھی نہیں جاسکتی اور فون کاٹ دیا۔