لاؤڈ اسپیکر کو لیکر ممبئی کی مساجد کے ذ مہ داران کا بڑا فیصلہ، لاؤڈ اسپیکر کے بغیر دی جائے گی فجر کی اذان۔
ممبئی: مسلم مذہبی رہنماؤں نے لاؤڈ اسپیکر پر اذان کے حوالے سے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق اب فجر کی اذان لاؤڈ اسپیکر کے بغیر دی جائے گی۔ ممبئی کی مشہور سنی بڑی مسجد مدن پورہ اور مینارہ مسجد میں فجر کی اذان بنا لاؤڈ اسپیکر دی گئی۔ دراصل، بدھ کی رات جنوبی ممبئی کی 26 مساجد کے مذہبی رہنماؤں نے میٹنگ کی اور فیصلہ کیا کہ اب صبح (فجر) کی اذان لاؤڈ اسپیکر کے بغیر دی جائے گی۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جائے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ مہاراشٹر میں مساجد میں نصب لاؤڈ سپیکر کو لے کر دیرینہ تنازعہ چل رہا ہے اور پولیس نے MNS کے سربراہ راج ٹھاکرے کو CrPC 149 کے تحت نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس سی آر پی سی کے سیکشن 149 کے تحت قابل شناخت جرائم کو روکنے کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ قابلِ سماعت جرائم وہ ہیں جن میں پولیس کسی کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے۔
اس پورے معاملے کے بارے میں راج ٹھاکرے نے کل کہا تھا کہ صبح سے مجھے مہاراشٹر کے مختلف حصوں سے فون آرہے ہیں۔ مہاراشٹر کے باہر سے بھی کالیں آرہی ہیں۔ پولیس کی کالیں آرہی ہیں۔ اب تک پولیس کئی جگہوں پر میرے کارکنوں اور رہنماؤں کو نوٹس دے رہی ہے اور پکڑ رہی ہے. ایسا صرف ہمارے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے؟ قانون پر عمل کرنے والوں کو سزا کیوں دی جا رہی ہے؟
راج ٹھاکرے نے مزید کہا کہ میں اب بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تقریباً 90 فیصد مساجد نے صبح کے وقت لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہیں دی تھی۔ میں ان مولویوں کا مشکور ہوں۔ کل مجھے وشواس نانگرے پاٹل کا فون آیا کہ زیادہ تر مساجد کے ٹرسٹیز نے اتفاق کیا ہے۔ اس کے بعد بھی 132 مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اذان دی گئی۔ میرا سوال یہ ہے کہ حکومت ان کے خلاف کیا کارروائی کرے گی؟