ترک صدر رجب طیب اردگان کے دورہ کے بعد سعودی عرب سے تعاون کے نئے دور کا آغاز۔
ریاض:  خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی جدہ کے قصر السلام میں ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہت زیادہ بہتری کی امید ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ترکی اور سعودی عرب کے درمیان 2017 کے بعد اعلیٰ ترین سطح کی سفارتی ملاقات ہوئی ہے۔ ترک صدر کا یہ دورہ حالیہ مہینوں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ترکی کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
دونوں رہنماوں کے درمیان گرمجوشی سے ہونے والی اس ملاقات کے دوران اقتصادی تعلقات بحال ہوئے ہیں اور ترکی نے علاقائی تنازعات سے پرہیز کیا ہے۔ اردگان کے دورے کے نتیجے میں دونوں ممالک صحت، توانائی، فوڈ سیکیورٹی، دفاع، زراعت اور مالیات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی کی ابھرتی ہوئی ڈرون ٹیکنالوجی بھی ریاض کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہے۔
قبل ازیں مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے کئی دیگر کئی اعلیٰ حکام کے ہمراہ ترکی کے صدر کا استقبال کیا، طیب اردگان نےسعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی۔ توقع ہے کہ دو روزہ دورہ نہ صرف اقتصادی لحاظ سے بلکہ علاقائی سیاست میں بھی نئے باب کا اشارہ دے گا جو ایک بلاک کی تشکیل جس کا علاقائی بحران کے نکات پر زیادہ اثر پڑے گا۔
ترک صدر نے دورہ سے قبل استنبول میں صحافیوں سے گفتگو میں بتایا تھا کہ میرا یہ دورہ تاریخی، ثقافتی اور انسانی تعلقات کے حامل دو برادر ممالک کے طور پر تعاون کے نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے مشترکہ خواہش کا مظہر ہے۔ ہم خلیجی خطے میں اپنے بھائیوں کے استحکام اور سلامتی کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی ہمارے اپنے استحکام اور سلامتی کو حاصل ہے۔ دورہ سعودی عرب کے ابتدائی روز ہی ترک صدر نےاس یقین کا اظہار کیا کہ ہم اپنے تعلقات کو اس سطح پر لے جائیں گے جو پہلے تھے۔
طیب اردگان کا کہنا تھا کہ میرا یہ دورہ ہمارے دوست (اور) بھائی سعودی عرب کے ساتھ نئے دور کے دروازے کھولے گا۔