سیٹھ کلدیپ کمار نے انتظامی افسران پر عائد کیا سنگین الزام، ملی بھگت سے افسران نے ان کرووڑوں کی زمین دوسروں کو کردی الاٹ، سی ایم سے انصاف کی فریاد۔
دیوبند:(سمیر چودھری)
گوردوارہ کمیٹی کے سربراہ اور سینئر سماجی کارکن سیٹھ کلدیپ کمار نے انتظامیہ پر ملی بھگت کرکے انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع ان کی کروڑوںروپیہ کی زمین ایک تاجر خاندان صرف 47 لاکھ میں الاٹ کردی گئی۔وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو مکتوب بھیج کر انہوں نے الاٹمنٹ منسوخ کرکے انصاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آج شہر کی لاجپت نگر کالونی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سیٹھ کلدیپ کمار نے بتایا کہ ان کے والد سیٹھ میلارام کے شہر کی انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع 2 بیگھہ 5 بسےّ، تقریباً 4500 مربع میٹر اراضی انتظامیہ نے 1952 میں سرکاری کام میں استعمال کے لیے حاصل کی تھی۔ جس کے آدھے حصے میں ڈسٹرکٹ انڈسٹریز سینٹر کا دفتر اور باقی آدھے میں پراجیکٹ آفیسر کی کوٹھی بنی ہوئی تھی۔ 1975 میں اس زمین پر بنائے گئے تمام مکانات اور دفاتر کو ڈسٹرکٹ انڈسٹریز سینٹر سہارنپور منتقل کر دیا گیا۔ تمام عمارتیں خالی ہونے کی وجہ سے گزشتہ 46 سالوں میں کھنڈرات بن چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2018 میں انہوں نے ڈپٹی کمشنر انڈسٹریز کو مذکورہ زمین ترجیحی بنیادوں پر الاٹ کرنے کے لیے خط دیا تھا۔ جب کوئی سنوائی نہیں ہوئی تو انہوں نے چیف منسٹر کی جن سنوائی پورٹل سے شکایت کی۔ 

الزام ہے کہ اس سے ناراض ہو کر ڈپٹی کمشنر نے بدنیتی اور ذاتی مفاد کے لیے اعلیٰ حکام کو گمراہ کرتے ہوئے مذکورہ زمین کا آدھا حصہ شہر کے ایک اور تاجر کے خاندان کے نام کر دیا۔ یہی نہیں اگست 2021 میں 2520 روپے فی مربع میٹر کے حساب سے لیز ڈیڈ کا اندراج کرتے ہوئے ان کی کروڑوں کی زمین صرف 47 لاکھ روپے میںدے دی گئی ہے۔ سیٹھ کلدیپ نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے اپیل کی ہے کہ غلط طریقے سے کی گئی زمین کی الاٹمنٹ کو منسوخ کرکے ان کی زمین واپس دلائی جائے۔