گیان واپی مسجد سروے کو روک دیاگیا، ٹیم کے مسجد میں داخل ہوتے ہی نعرے بازی، ایک زیرحراست ،ہنگامے کے پیش نظر بڑی تعداد میں پولس فورس تعینات۔
وارانسی: وارانسی کے کاشی وشواناتھ اور گیان واپی مسجد احاطے میں سروے کو لے کر ہنگامہ جاری ہے۔ جب سے سروے کی کارروائی شروع ہوئی ہے مخالفت کی جارہی ہے اس کارروائی کو لے کرجہاں ایک طرف مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے قانون کی خلاف ورزی قرار دینے والا بتایا ہے وہیں مسلم فریق نے عدالت میں کمشنر پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ہٹانے کی درخواست کی ہے۔ جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہاکہ ایڈوکیٹ کمشنر اور مدعی اپنا اپنا موقف پیش کریں۔ 
انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کی جانب سے دی گئی درخواست پرسماعت سول جج سینئر ڈویژن روی کمار دیواکر کی عدالت میں ہوئی، انہوں نے اس معاملے میں فیصلہ محفوظ رکھ لیا اور سماعت کےلیے اگلی تاریخ ۹ مئی مقرر کی ہے۔ تاہم عدالت نے سروے روکنے کا حکم نہیں دیا۔ سروے جاری رہے گا اور اجے مشرا اس سروے کی نگرانی کریں گے۔اس سماعت کے دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے پر شدید الزامات بھی لگائے گئے۔ ہندو فریق نے عدالت میں کہا کہ سروے ٹیم کو اپنا کام نہیں کرنے دیا جا رہا، دوسری طرف کا کہنا ہے کہ مسجد کی دیواروں کو نوچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وشو ویدک سناتن سنگھ کے عہدیدار جتیندر سنگھ ویسین کی قیادت میں راکھی سنگھ اور دیگر نے اگست ۲۰۲۱میں عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں شرنگر گوری کے باقاعدہ درشن اور دیگر دیوتاؤں کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سول جج (جونیئر ڈویڑن) روی کمار دیواکر کی عدالت نے دونوں فریقوں کو سننے کے بعد اجے کمار مشرا کو ۲۶اپریل کو ایڈوکیٹ کمشنر مقرر کیا اور گیانواپی کیمپس کے ویڈیو گرافی سروے کا حکم دیا کہ وہ 10 مئی کو اپنی رپورٹ پیش کرے۔ مشرا نے ویڈیو گرافی اور سروے کے لیے ۶؍ مئی کا دن مقرر کیا تھا۔دوسری طرف گیان واپی مسجد میں آج دوسرے دن سروے نہیں ہوسکا ہے۔ ہندو فریق کے وکیلوں کی ٹیم سروے کےلیے موقعے پر پہنچی تھی لیکن انہیں اندر جانے سے روک دیا گیا۔ 
اس کے بعد ہندو فریق کے وکیل کاشی وشواناتھ دھام احاطے سے ہی گیان واپی مسجد کے احاطے میں داخل ہوگئے، ان کے ساتھ ویڈیو گرافر اور فوٹو گرافر بھی مسجد احاطے میں داخل ہوگئے، اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہی ںکہ سروے کےلیے ٹیم کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیاگیا ہے۔ بتایاجارہا ہے کہ جب ایڈوکیٹ کمشنر کی ٹیم گیان واپی مسجد احاطے میں پہنچی تو احاطے کے باہر نمازیوں کی بھیڑ جمع ہوگئی اور نعرے بازی شروع کردی جسے پولس نے بعد میں منتشر کردیا۔ہنگامے کے پیش نظر گیان واپی مسجد احاطے میں سیکوریٹی سخت کردی گئی ہے اور بڑی تعداد میں پولس فورس کے جوانوں کو تعینات کیاگیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شام ۵ بجے کے قریب بڑی تعداد میں مسلمانوں نے وہاں پہنچ کر نعرے بازی شروع کردی، پولس نے ایک شخص کو حراست میں لیا ہے پوچھ تاچھ میں اس کا نام عبدالکلام سامنے آیا ہے۔ 
باہر ہنگامہ ہونے کے بعد سروے ٹیم باہر آئی ، مدعی فریق کے مطابق مسلم فریق کے لوگ بریکیٹنگ کے اندر موجود تھے، اس لئے سروے نہیں ہوسکا۔ اب ۹ مئی کی سماعت میں موقف رکھاجائے گا۔ انہو ںنے کہاکہ عدالت میں مقامی انتظامیہ کے خلاف کوئی شکایت نہیں کی جائے گی۔ ادھر اترپردیش کے موہن لال گنج سے ممبر پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر کوشل کشور نے وشوناتھ کا دروہ کیا ۔ اس دوران انہوں نے سروے معاملے پر کہاکہ گیان واپی لفظ اردو کا نہیں ہے۔ یہ مندر ہے یا مسجد اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔