توہین رسالت معاملے میں راہل گاندھی کا مودی سرکار پر بڑا حملہ، بی جے پی کی انتہا پسندی نے دنیا بھر میں ملک کی شبیہ خراب کی۔
نئی دہلی :(ایجنسی)
پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق نوپور شرما کے بیان نے پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ کو خراب کرنے کا کام کیا ہے۔ بی جے پی نے انھیں پارٹی سے بھلے ہی نکال دیا ہو، لیکن ملک میں بی جے پی کے خلاف سیاسی پارٹیوں کی ناراضگی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ کئی لیڈروں نے نوپور شرما کے خلاف مقدمہ درج کر گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس درمیان کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے ضدی رویہ اور کٹر پالیسی نے ملک کی شبیہ دنیا میں خراب کی ہے۔
راہل گاندھی نے اس تعلق سے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’اندرونی طور پر تقسیم ہونے سے ہندوستان باہری طور پر کمزور ہو گیا ہے۔ بی جے پی کی شرمناک کٹر پسندی نے نہ صرف ہمیں الگ تھلگ کر دیا ہے، بلکہ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کی شبیہ کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب نوپور شرما اور نوین کمار جندل کی طرف سے پیغمبر اسلامؐ کے خلاف دیئے گئے بیانات پر مسلم ممالک نے سخت اعتراض کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب، ایران، کویت اور قطر سمیت دیگر مسلم ممالک نے اس معاملے پر ہندوستان کے سامنے اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔ نوپور شرما کے بیان کے بعد اتر پردیش کے کانپور میں تو گزشتہ دنوں تشدد برپا ہو گیا تھا۔ اس میں کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ نوپور شرما کے بیان پر تنازعہ بڑھنے کے بعد بی جے پی نے اتوار کو ایک پریس بیان جاری کیا تھا جس میں کہا تھا کہ پارٹی نہ ہی ایسے کسی نظریہ کو مانتی ہے اور نہ ہی ایسے کسی نظریہ کو فروغ دیتی ہے۔ بی جے پی کے اس بیان پر کانگریس کا رد عمل بھی سامنے آیا تھا۔ اس نے اتوار کو ہی کہا تھا کہ بی جے پی نے پیغمبر محمدؐ پر تبصرہ کے معاملے میں اپنے دو لیڈروں کے خلاف کارروائی باہری طاقتوں کی تنبیہ کے بعد دباؤ میں آنے کے سبب کی ہے۔