پہلی ہی بارش میں دیوبند کے نشیبی علاقے پانی سے لبریز، بارش نے کھولی میونسپل بورڈ کے نالوں کی صفائی کے دعوؤں کی پول۔
دیوبند: (سمیر چودھری)
طویل انتظار کے بعد برسات کی پہلی بارش نے جب دستک دی تو شہر میں ہر طرف سے پانی پانی نظر آیا۔ صرف 45 ملی میٹر بارش کی وجہ سے ہی شہر کے کئی نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے میونسپل بورڈ کے نالوں کی صفائی کے دعوو ¿ں کی پول کھُل گئی۔بدھ کے روز بادلوں کے درمیان چھائی ہوئی امس بھری گرمی سے جمعرات کی صبح ہونے والی بارش سے راحت ملی۔ بارش کے باعث پارہ بھی اچانک سات ڈگری تک گر گیا۔ بارش کے دوران بدلے موسم سے لوگوں کو کافی راحت ملی۔ لیکن شہر کے نشیبی علاقوں محلہ شاہ جلال، ریتی چوک، بیرون کوٹلہ، لہسواڑہ، دارالعلوم چوک، مین بازار، دیوان گیٹ، محلہ بڑضیا ءالحق، عیدگاہ روڈ اور مدنی گیٹ و اردو دروازہ سمیت شہر کے دیگر کئی علاقے کچھ ہی دیر میں بارش کے پانی سے لبریز ہوگئے۔ حالانکہ برسات کی پہلی بارش کے سبب سڑکوں پر بھرے پانی میں بچے اور نوجوان خوب موج مستی کرتے نظر آئے۔وہیں پہلی ہی بارش میں میونسپل بورڈ کے نالے نالیوں کی صفائی کے سبھی دعوو ¿ں کی پول کھل گئی اور بارش کا پانی کئی لوگوں کے گھروں اور دکانوں میں بھر گیا۔ ادھر سابق میونسپل بورڈ رکن سکندر علی نے ڈی ایم اور ایس ڈی ایم سے نالوں کی صفائی میں گھپلے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بدعنوان ملازمین کے خلاف کارروائی کی مانگ کی۔ بلدیہ کے ای او ڈی کے رائے نے بتایا کہ بلدیہ کی جانب سے شہر کی نکاسی کے لیے بنائے گئے 80 فیصد سے زیادہ نالوں بشمول تمام بڑے نالوں کی صفائی کی جاچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بارش کے دوران گھروں سے نکلنے والے کوڑے کی وجہ سے پلیابند ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نالوں کی صفائی کی وجہ سے بارش رکنے کے بعد کہیں بھی پانی جمع نہیں ہوا۔