نیشنل ہیرالڈ معاملہ میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو ای ڈی سمن: کانگریس کا ردِ عمل، ’جھکیں گے نہیں، سینہ ٹھوک کر لڑیں گے‘۔
نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے نیشنل ہیرالڈ معاملہ میں کانگریس صدر سونیا گاندھی اور سابق صدر راہل گاندھی کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سمن بھیجا ہے۔ سمن کے مطابق دونوں کو 8 جون کو ایجنسی کے سامنے اپنا بیان درج کرانا ہے۔ اس سمن پر کانگریس پارٹی نے کہا کہ یہ سیاسی مخالفین کے خلاف کی گئی انتقامی کارروائی ہے اور اس معاملے میں پارٹی نہ تو جھکے گی اور نہ ہی ڈرے گی، بلکہ ڈٹ کر لڑے گی۔
ای ڈی کے نوٹس کے بعد کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل و کانگریس رہنما ابھیشیک منو سنگھوی نے دہلی میں پریس کانفرنس کر کے اس معاملہ کے تعلق سے تفصیلی معلومات فراہم کی۔ سرجے والا نے نیشنل ہیرالڈ کے پروقار ماضی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’برطانوی حکومت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے انڈین نیشنل کانگریس نے 1938 میں نیشنل ہیرالڈ اخبار شروع کیا تھا، جس کے روح رواں مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، سردار پٹیل، پرشوتم داس ٹنڈن، آچاریہ نریندر دیو، رفیع قدوائی اور دیگر تھے۔ انگریزوں کو اس اخبار سے اتنا خطرہ محسوس ہوا کہ انہوں نے 1942 میں ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے دوران نیشنل ہیرالڈ پر پابندی عائد کر دی، جو سال 1945 تک عائد رہی۔ تحریک آزادی کی آواز بنے اس اخبار کا بنیادی اصول تھا– آزادی خطرے میں ہے، پوری قوت سے اس کا دفاع کریں۔‘‘
سرجے والا نے مزید کہا ’’آج پھر اس انگریزی حکومت کی طرح نظریہ آزادی کی تحریک کو دبانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اس سازش کے سربراہ خود وزیر اعظم نریندر مودی ہیں اور اسے لاگو کرنے کے لئے ان کا چہیتا اور پالتو ہتھیار ای ڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک کو گمراہ کرنے کے لئے آئے دن مسائل سے توجہ ہٹانے کی سیاست میں ماہر مودی حکومت انتقام کی آگ میں اندھی ہو گئی ہے۔ جس ذہنیت نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا، آج بھی وہی غلامی کی علامت ذہنیت آزادی کی قربانیوں سے انتقام لے رہی ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے ایک بزدلانہ اور ڈرپوک سازش رچی ہے۔ نیشنل ہیرالڈ معاملہ میں اب وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو اپنی پالتو ای ڈی سے نوٹس جاری کرایا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’صاف ہے کہ تاناشاہ ڈر گیا ہے۔ حکمرانی کے تمام محاذوں پر اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے میں بری طرح ناکام ہونے کے سبب وہ چھٹپٹا رہا ہے۔ ملک کو گمراہ کرنے کے لئے انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت کے خلاف ایک گھناؤنی اور بزدلانہ سازش رچی جا رہی ہے۔ وہ جان لیں کہ تحریک آزادی کی یہ آواز ان کے جال کو توڑ دے گی۔‘‘

ابھیشیک منو سنگھوی اور سرجے والا نے پریس کانفرنس کے دوران اس معاملے میں 3 اہم حقائق بھی پیش کئے جو اس طرح ہیں:
1۔ انڈین نیشنل کانگریس نے 1938 میں قائم شدہ نیشنل ہیرالڈ اخبار کو چلانے والی کمپنی ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) کو تقریباً 10 سال کی مدت میں چیک کے ذریعے تقریباً 100 قسطوں میں 90 کروڑ روپے ادا کیے، تاکہ اس کے واجبات ادا کیے جا سکیں۔ اس میں سے 67 کروڑ کی رقم نیشنل ہیرالڈ نے اپنے ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے استعمال کئے اور باقی رقم بجلی کی ادائیگی، کرایہ، عمارت وغیرہ پر خرچ کی گئی۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے دیا گیا قرض نہ تو جرم ہے اور نہ ہی غیر قانونی۔ اس کی تصدیق الیکشن کمیشن نے اپنے 6 نومبر 2012 کے خط سے بھی کیا ہے۔
2۔ چونکہ نیشنل ہیرالڈ اخبار آمدنی کی کمی کی وجہ سے قرض کی ادائیگی کرنے سے قاصر تھا، اس لیے ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ کے حصص ’ینگ انڈیا‘ کو دیے گئے، جو قانون کے مطابق ایک غیر منافع بخش کمپنی ہے۔ یعنی ینگ انڈیا کی منیجنگ کمیٹی کے ممبران جو کہ سونیا گاندھی، راہل گاندھی، آنجہانی موتی لال ووہرا وغیرہ ہیں، کوئی منافع، تنخواہ یا کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہی نہیں منیجنگ کمیٹی ینگ انڈیا کے حصص بھی فروخت نہیں کر سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ینگ انڈیا سے ایک پیسہ کا بھی مالی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کے حصص فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ وجہ واضح ہے کہ ہم نیشنل ہیرالڈ، ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ اور ینگ انڈیا کو کانگریس پارٹی نہیں، بلکہ ملک کی میراث سمجھتے ہیں۔
3۔ سال 14-2013 میں سبرامنیم سوامی نے کانگریس پارٹی کی طرف سے انڈین نیشنل کانگریس کے نیشنل ہیرالڈ کو دیے گئے قرض کے تعلق سے عدالت میں ایک نجی شکایت دائر کی، جو ابھی تک زیر التوا ہے۔ اس شکایت کے بارے میں بھی بہت کچھ الٹا سیدھا بولا گیا اور غلط معلومات کی تشہیر کی گئی۔ جب وہاں بھی کچھ نہیں ہوا تو اب ساڑھے سات سال بعد مودی جی کی ای ڈی نے اسی نجی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کر کے سمن جاری کر دیا۔ مودی سرکار کو جان لینا چاہیے کہ ایسے فرضی اور من گھڑت مقدمات درج کر کے وہ اپنی گھناؤنی اور بزدلانہ سازش میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
نہ تو وہ نیشنل ہیرالڈ یعنی آزادی کی آواز بند کرا پائیں گے اور نہ ہی سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو خوفزدہ کر پائیں گے۔ کانگریس کی قیادت نڈر، بے خوف اور اٹل ہے۔ ہم ایسے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں، جھکنے والے نہیں، بلکہ سینہ ٹھوک کر زور سے لڑیں گے۔
نیشنل ہیرالڈ اخبار کا بنیادی اصول آج بھی اتنا ہی موزوں ہے، جتنا پہلے تھا۔ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی قیادت میں پوری پارٹی اور ہر کارکن ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوگا۔ ہم ملک کی جمہوریت پر ہونے والے اس حملے کا مقابلہ کریں گے اور فتح یاب ہوں گے۔

قومی آواز۔