جمعیت اور شریعت سے نہیں چلے گا ملک، مولانا محمود مدنی کے بیان پر ریاستی وزیر کنور برجیش سنگھ کا ردعمل، کہا "غیر ضروری بیانات دے کر ماحول خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے"۔
دیوبند: حکومت اتر پردیش میں محکمہ تعمیرات عامہ کے وزیر مملکت اور دیوبند سے بی جے پی کے ایم ایل اے کنور برجیش سنگھ نے جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا محمود مدنی کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک جمیعت اور شریعت سے نہیں بلکہ آئین سے چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ غیر ضروری بیانات دے کر ملک کا ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں، لیکن بی جے پی کی مودی اور یوگی حکومت میں کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ عوام بھی ایسے بیانات کو قبول نہیں کرتی ہے۔
پی ڈبلیو ڈی کے وزیر مملکت کنور برجیش سنگھ نے بدھ کو دیوبند میں اپنی رہائش گاہ پر بات چیت کے دوران دیوبند میں حال ہی میں منعقدہ ہوئی جمعیت کی کانفرنس پر اپنی رائے دی ہے۔ 
کانفرنس میں جمعیت کے سربراہ مولانا محمود مدنی نے کہا تھا کہ جن لوگوں کو ملک میں ہمارے مذہب، رہن سہن، عادات اور کھانے پینے سے پریشانی ہے وہ دوسرے ملک چلے جائیں، وزیرِ نے اس کے رد عمل میں  کہا کہ ان لوگوں کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے، اس لیے وہ برہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے 125 کروڑ عوام کو وزیر اعظم نریندر مودی پر بھروسہ ہے۔ اُنہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک اور ریاست کا ماحول خراب کرنے والوں کے ذہن میں یہ اچھی طرح رہنا چاہیے کہ ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے۔
محمود مدنی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مرکزی اور ریاستی حکومت کی اسکیموں کو دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت اقلیتوں کو 28 فیصد مکانات دیئے ہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں بغیر کسی امتیاز کے سبھی کے لیے ترقیاتی کام کر رہی ہے۔اس لیے انہیں مرکز اور ریاستوں میں دوبارہ اکثریت ملی ہے۔

سمیر چودھری۔