اکابرین دیوبند کے ہر پہلو پر لکھنے اور اُردو کی ترویج و اشاعت کے لئے کوشاں رہنے والے ایک ادیب و قلم کار کی رحلت: عمیر الٰہی عثمانی۔
متعلم جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند۔
دیوبند کے مشہور ادیب و قلم کار جناب عبداللہ عثمانی صاحب کی اچانک انتقال کی خبر سے دل بیٹھ سا گیا اول مرحلہ میں تو یقین ہی نہیں آیا اور جب اس خبر کی تصدیق ہوگئی تو پھر دل و دماغ میں یہ احساس جاگا کہ اِس موت و حیات کے مابین ایک سانس حائل ہے ’’جو چل رہی ہے تو اِس جہاں اور رک گئ تو اُس جہاں‘‘ عبداللہ عثمانی مرحوم اردو کے ایک بہترین ادیب اور قلم کار تھے، وہ اپنے مضامین والد صاحب کے ذریعے ہی کتابت کراتے، مرحوم انتہائی سنجیدہ، نیک، صالح اور یکسوانسان تھے، انہوں نے ایک خاص انداز میں اپنی زندگی بسر کی۔ مرحوم عمدہ لکھتے تھے اور جو زندگی اللہ نے اُنہیں عطا کی اُس کو امانت جان کر خوب لکھا اور لکھنے کا حق ادا کیا۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ، اسیر مالٹا حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ  نامور اور گم نام مجاہدین آزادی پر بے شمار مضامین لکھے اور ہمیشہ اس کا اہتمام کیا کہ اُن شخصیات پر وہ خامہ فرسائی کریں جن کی خدمات زمانوں پر محیط ہیں۔ لکھنے کا خاص سلیقہ تھا اور اپنی بات کو آسانی کے ساتھ ادا کرنے میں کامیاب تھے۔ تیس سال سے زائد عرصے تک اُن کا قلم موتی بکھیرتا رہا اور دیوبند کی ادبی و صحافتی زندگی کے وہ ایک ایسے رکن تھے جن کی یادیں کبھی محو نہیں ہوں گی۔ کسی بھی موقع پر مرحوم نے اِن اکابر کو نظر انداز نہیں کیا۔ اُن کا ہر مضمون تحقیقی ہوتا۔ مجھ جیسا نااہل طالب علم اُن کے مضامین دلچسپی سے پڑھتااور اُن کی قیمتی اور ادبی تحریروں سے خوب استفادہ کرتا۔مرحوم اپنی تحریرات اور مطبوعات کے ذریعے ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ و تابندہ رہیں گے۔ 

اللهم اغفر له وارحمه و عافہ واعف عنه وأكرم نزله و وسع مدخله و اغسلہ بالماء والثلج والبرد و نقہ من الخطایا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس۔